صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 496
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۶ ۷۸ - كتاب الأدب وَرَبِّ إِبْرَاهِيمَ قَالَتْ قُلْتُ أَجَلْ لا کی قسم۔اور جب ناراض ہوتی ہو تو کہتی ہو : نہیں، ابراہیم کے رب کی قسم۔کہتی تھیں: میں نے کہا: ہاں، میں صرف آپ کا نام ہی چھوڑتی ہوں۔أَهْجُرُ إِلَّا اسْمَكَ۔طرفه ٥٢٢٨-۔۔يح: مَا يَجُوزُ مِنَ الْهَجْرَانِ لِمَنْ عَصَی: جس نے معصیت کی ہو اس کی ملاقات کو ترک کرناجو جائز ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگ کہتے ہیں کہ اپنی قوم کے نظام کے لیے بھی کسی سے کلام کرنے کو روکنا جائز نہیں۔حالانکہ اگر اپنی قوم کا نظام قائم رکھنے کے لیے کسی سے کلام کرنے کو روکنا جائز نہیں تو سب سے پہلے مجرم حضرت موسیٰ ہیں جنہوں نے سامری کو حکم دے دیا کہ تُو جب بھی بنی اسرائیل کے پاس سے گذرے تو یہ کہا کر کہ موسیٰ کے حکم کے مطابق میرے ساتھ کوئی تعلق نہ رکھے۔حقیقت یہ ہے کہ قومی نظام کے مطابق قطع تعلقی ایمان کے مظاہرہ کا نام ہے اور اسے مقاطعہ نہیں کہا جا سکتا۔اگر یہ مقاطعہ ہے تو چاہیے کہ ہر مسلمان اپنے بچوں کو پنڈتوں کے پاس پڑھنے کے لئے بھیجا کرے تاکہ وہ وید کی باتیں سیکھیں یا عیسائی پادریوں کے پاس بھیجا کرے تاکہ وہ اُن سے انجیل کی باتیں سیکھیں۔سارے پاکستان اور مصر میں شور مچا ہوا ہے کہ عیسائی سکولوں میں استادوں کو انجیل پڑھانے کی اجازت نہ ہو ورنہ ایسے سکولوں میں مسلمان بچوں کو داخل کرنے سے منع کر دیا جائے۔اگر جوش ایمان کے ماتحت ان لوگوں سے جو ظاہر میں قوم کے ساتھ شامل ہو کر فریب کرتے ہیں کسی قوم کا اپنی مرضی سے انقطاع کرنا نا جائز ہے تو پھر تو کوئی قوم اپنے ایمان کی حفاظت کر ہی نہیں سکتی۔اگر کسی کے باپ کو کوئی گالی دیتا ہے تو وہ اس سے کلام نہیں کرتا۔کیا اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ مقاطعہ کر رہا ہے یا یہ کہا جاتا ہے کہ وہ غیرت کا ثبوت دیتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی شخص کسی گروہ میں شامل ہو کر اس گروہ کے عقاید کیخلاف آہستہ آہستہ اس کے نوجوانوں کو ورغلائے اور والدین اپنے بچوں کو اس سے ملنے سے روکیں تو یہ بھی بائیکاٹ نہیں غیرت ایمانی ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سور قاطها، زیر آیت آن تَقُولَ لَا مِسَاسَ ، جلد ۵ صفحه ۴۶۲)