صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 495
صحیح البخاری جلد ۱۴ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۴۹۵ ۷۸ - كتاب الأدب ہر بات جو نا پسند ہے اُس پر لڑائی شروع کر دینا معاملہ کو بلاوجہ طول دینا اور تفرقہ و شقاق کی صورت پیدا کر کے مقاطعہ تک نوبت پہنچانا اور بول چال بند کر دینا ہرگز ایک مومن کے شایانِ شان نہیں ہے۔ اگر ہر شخص کو اس امر کی اجازت دی جائے کہ وہ جس سے چاہے بول چال بند کر دے جس سے چاہے تفرقہ اختیار کرلے تو قوم کی ٹوٹتے ٹوٹتے کوئی حیثیت ہی باقی نہیں رہ جاتی ۔ اس فعل کو قومی جرم قرار دیا جائے اور انہیں نصیحت کی جائے کہ مقاطعہ کرنا یا بول چال بند کر دینا جائز نہیں ہے۔“ انوار العلوم، خدام الاحمدیہ کے لیے تین اہم باتیں، جلد ۷ اصفحہ ۳۹۴) بَاب ٦٣ : مَا يَجُوزُ مِنَ الْهِجْرَانِ لِمَنْ عَصَى جس نے معصیت کی ہو اس کی ملاقات کو ترک کرنا جو جائز ہے وَقَالَ كَعْبٌ حِينَ تَخَلَّفَ عَنِ النَّبِيِّ اور حضرت کعب نے جبکہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَنَهَى النَّبِيُّ سے پیچھے رہ گئے تھے، کہا: اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُسْلِمِينَ عَنْ نے مسلمانوں کو ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے كَلَامِنَا وَذَكَرَ خَمْسِينَ لَيْلَةً۔ روک دیا اور انہوں نے پچاس راتوں کا ذکر کیا۔ ٦٠٧٨ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ ۶۰۷۸ : محمد (بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عبدہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ سے، عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ ہشام نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے حضرت : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ وہ بیان کرتی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي ي: لَأَعْرِفُ غَضَبَكِ وَرِضَاكِ قَالَتْ قُلْتُ فرمایا کہ میں تمہاری ناراضگی اور خوشی کو پہچان لیتا وَكَيْفَ تَعْرِفُ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ہوں۔ کہتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ إِنَّكِ إِذَا كُنْتِ رَاضِيَةً قُلْتِ بَلَى وَرَبِّ یہ کیونکر پہچانتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: جب تم مُحَمَّدٍ وَإِذَا كُنْتِ سَاخِطَةً قُلْتِ لَا خوش ہوتی ہو تو کہتی ہو: کیوں نہیں، محمد کے رب