صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 494
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۴ ۷۸ - كتاب الأدب اللهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ ایک دوسرے کی ملاقات ترک کرو اور بھائی بھائی أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ۔طرفه: ٦٠٦٥- ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ اور کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین راتوں سے زیادہ چھوڑے رکھے۔٦٠٧٧: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۲۰۷۷: عبد اللہ بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْنِي عَنْ أَبِي أَيُّوبَ سے، ابن شہاب نے عطاء بن یزید لیٹی سے ، عطاء الْأَنْصَارِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله نے حضرت ابو ایوب انصاری سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی شخص کو يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ يَلْتَقِيَانِ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین رات سے زیادہ چھوڑے رکھے۔وہ دونوں ایک دوسرے سے ملیں تو یہ بھی منہ پھیر لے اور وہ بھی منہ پھیر لے اور دونوں میں سے بہتر وہ ہے جو پہلے سلام کرے۔فَيُعْرِضُ هَذَا وَيُعْرِضُ هَذَا وَخَيْرُهُمَا الَّذِي يَبْدَأُ بِالسَّلَامِ۔طرفه ٦٢٣٧ - شریح : الهِجْرَةُ: یعنی ملاقات ترک کرنا۔علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ یہ باب قطع تعلقی کی مذمت کے بارے میں ہے- الهجرة کے معنی ہیں اپنے مؤمن بھائی سے آمنا سامنا ہونے کے وقت کلام نہ کرنا اور اکٹھے ہونے پر ایک دوسرے سے اعراض کرنا۔یہاں وطن کو چھوڑ کر کسی دوسری جگہ چلے جانا مراد نہیں ہے۔(عمدة القاری، جزء ۲۲ صفحه (۱۴۱) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ” کہہ دیتے ہیں کہ فلاں سے ہماری بول چال اس لئے بند ہے یا قطع تعلقی اس لئے کی ہوئی ہے کہ فلاں وقت اس نے مجھے تکلیف پہنچائی تھی اور باوجود کوشش کے ہماری صلح نہیں ہوئی اور یہ نہیں ہوا اور وہ نہیں ہوا، شکوے اور شکایتیں ہوتی ہیں تو اب میں نے بھی یہ عہد کر لیا ہے کہ میں اس سے کبھی بات نہیں کروں گا۔تو یہ غلط قسمیں ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔حکم تو یہ ہے کہ تین دن سے زیادہ اپنے بھائی سے قطع تعلقی نہ کرو۔(خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۷، فروری ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۱۶۲)