صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 493 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 493

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۳ ۷۸ - كتاب الأدب وَيَقُولَانِ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ساتھ ابن زبیر نہیں۔جب وہ اندر آئے تو ابن زبیر وَسَلَّمَ نَهَى عَمَّا قَدْ عَلِمْتِ مِنَ بھی پردہ کے اندر آگئے اور جا کر حضرت عائشہ سے الْهِجْرَةِ فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ لپٹ گئے اور لگے ان کو قسمیں دینے اور رونے۔يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثِ لَيَالٍ فَلَمَّا اور حضرت مسور اور حضرت عبد الرحمن بھی ان أَكْثَرُوا عَلَى عَائِشَةَ مِنَ التَّذْكِرَةِ کو قسمیں دیتے تھے کہ آپ ضرور اس سے بات وَالتَّحْرِيج طَفِقَتْ تُذَكِّرُهُمَا وَتَبْكِي کریں اور اس کی معذرت قبول کریں اور وہ دونوں وَتَقُولُ إِنِّي نَذَرْتُ وَالنَّذْرُ شَدِيدٌ فَلَمْ کہتے تھے کہ نبی صلی ا لم نے جو قطع تعلقی سے منع يَزَالَا بِهَا حَتَّى كَلْمَتِ ابْنَ الزُّبَيْرِ فرمایا وہ آپے جانتی ہی ہیں۔کیونکہ کسی مسلمان کو وَأَعْتَقَتْ فِي نَذْرِهَا ذَلِكَ أَرْبَعِينَ جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ رَقَبَةً وَكَانَتْ تَذْكُرُ نَذْرَهَا بَعْدَ ذَلِكَ چھوڑے۔جب انہوں نے حضرت عائشہ کو بہت کچھ حدیثیں یاد دلائیں اور مجبور کیا تو انہوں نے فَتَبْكِي حَتَّى تَبُلُّ دُمُوعُهَا خِمَارَهَا۔بھی ان کو نصیحت کرنی شروع کی اور رونے لگیں اور کہنے لگیں: میں نے نذر مانی ہے اور نذر کا معاملہ مشکل ہوتا ہے۔وہ دونوں ان سے کہتے سنتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے ابن زبیر سے بات کی اور اپنی اس نذر میں چالیس غلام آزاد کئے۔اس کے بعد اپنی اس نذر کو یاد کرتیں اور اتنار و تیں کہ اُن کے آنسو اُن کی اوڑھنی کو تر کر دیتے۔٦٠٧٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :۶۰۷۶: عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى ہے، ابن شہاب نے حضرت انس بن مالک سے اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَبَاغَضُوا وَلَا روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ تم آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو اور نہ اطرافه: ٣٥٠٣، ٣٥٠٥۔