صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 25
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۵ ۷۵ کتاب المرضى آپ کو بلایا اس کی حالت اس وقت سخت تکلیف کی تھی اور زندگی کی آخری گھڑیوں کو نہایت اضطراب اور دکھ کے ساتھ وہ طے کر رہا تھا۔آپ نے اسے ہاتھوں میں لیا اور اس کے اضطراب کو دیکھا آنکھیں فرط محبت اور وفورِ رحمت سے پر نم ہوگئیں۔ایک شخص جو اس حقیقت سے ناواقف تھا کہ نبی کے لئے یہی ضروری نہیں کہ ہمیں خدا کی باتیں سکھائے بلکہ اس کا یہ بھی کام ہے کہ وہ ہمارے لئے کامل نمونہ ہو انسانیت کا، مکمل نقشہ ہو بشریت کا۔اس امر کو دیکھ کر حیران ہو گیا اور بے اختیار ہو کر بولا۔یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ تو ہمیں صبر کا سبق دیتے ہیں اور آج خود آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں آپ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا تمہارا دل شاید رحم سے خالی ہو گا مجھے تو اللہ تعالیٰ نے رحم دل بنایا ہے۔کیا لطیف سبق ایک ہی فقرہ میں دے دیا کہ اولاد کی محبت اور ان کی تکلیف کا احساس تو انسانیت کے اعلیٰ جذبات میں سے ہے خدا کا نبی ان جذبات سے خالی کیوں کر ہو سکتا ہے وہ دوسروں کے لئے اس میں بھی نمونہ ہے جس طرح اور اعلیٰ درجہ کے اخلاق میں نمونہ ہے۔“ (رسول کریم صلی ان کی ایک انسان کی حیثیت میں ، انوار العلوم، جلد ۰ اصفحہ ۵۴۷) بَابِ ۱۰: عِيَادَةُ الْأَعْرَابِ بادیہ نشینوں کی عیادت کرنا ٥٦٥٦: حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ۵۲۵۶: معلی بن اسد نے ہمیں بتایا کہ عبد العزیز حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُخْتَارٍ حَدَّثَنَا بن مختار نے ہم سے بیان کیا کہ خالد (حذاء) نے خَالِدٌ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ہم سے بیان کیا۔خالد نے عکرمہ سے، عکرمہ نے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أَعْرَابِي في صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کو گئے نبی يَعُودُهُ قَالَ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَى مَرِيضٌ جب کسی بیمار کے ہاں اس کی عیادت کرنے کو جاتے يَعُودُهُ فَقَالَ لَهُ لَا بَأْسَ طَهُورٌ إِنْ تو آپ اس سے کہتے : فکر کی بات نہیں ان شاء اللہ