صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 491 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 491

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۱ ۷۸ - كتاب الأدب ہے کہ یہ کون ہے جو میر امقابلہ کرے۔بعض اوقات خاندان اور ذات کا تکبر ہوتا ہے، سمجھتا ہے کہ میری ذات بڑی ہے اور یہ چھوٹی ذات کا ہے۔ایک عورت سیدانی تھی، اسے پیاس لگی۔وہ دوسرے کے گھر میں جا کر کہنے لگی کہ اتنتی تو پانی تو پہلا مگر پیالہ کو دھولینا کیونکہ تم انتی ہو اور میں سیدانی اور آلِ رسول ہوں۔بعض وقت تکبر علم سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ایک شخص غلط بولتا ہے تو یہ جھٹ اس کا عیب پکڑتا ہے اور شور مچاتا ہے کہ اس کو تو ایک لفظ بھی صحیح بولنا نہیں آتا۔غرض مختلف قسمیں تکبر کی ہوتی ہیں اور یہ سب کی سب انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے سے روک دیتی ہیں۔ان سب سے بچنا چاہیئے۔“ بَاب ٦٢ : الْهِجْرَةُ ملاقات ترک کرنا ملفوظات جلد ۳ صفحه ۶۱۴،۶۱۳) وَقَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: کسی آدمی وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يُهْجُرَ أَخَاهُ کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔فَوْقَ ثَلَاثٍ۔٦۰۷۳، ٦٠٧٥،٦٠٧٤: حَدَّثَنَا ۶۰۷۴،۶۰۷۳، ۶۰۷۵: ابوالیمان نے ہم سے أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِیِ بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْن سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عوف بن مالک بن الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ طفیل جو کہ حارث کے بیٹے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَخِي عَائِشَةَ زَوْج النَّبِيِّ صَلَّى الله کی زوجہ حضرت عائشہ کے ان کی ماں کی طرف سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا أَنَّ عَائِشَةَ حُدِثَتْ بھتیجے ہیں، نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ کو بتایا گیا أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعِ أَوْ کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے کسی خرید و فروخت عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ وَاللَّهِ لَتَنْتَهِيَنَّ یا عطیہ کے متعلق جو حضرت عائشہ نے عطا کیا تھا، عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا فَقَالَتْ کہا: اللہ کی قسم ! حضرت عائشہ کوڑ کنا ہو گا ورنہ میں