صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 491
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۱ ۷۸ - كتاب الأدب ہے کہ یہ کون ہے جو میر امقابلہ کرے۔ بعض اوقات خاندان اور ذات کا تکبر ہوتا ہے، بڑی ہے اور یہ ہے، سمجھتا ہے کہ میری ذات بڑی ہے اور یہ چھوٹی ذات کا ہے۔ ایک عورت سیدانی تھی، اسے پیاس لگی۔ وہ دوسرے کے گھر میں جا کر کہنے لگی کہ اُمتی تو پانی تو پلا مگر پیالہ کو دھولینا کیونکہ تم اُمتی ہو اور میں سیدانی اور آلِ رسول ہوں۔ بعض وقت تکبر علم سے بھی پیدا ہوتا ہے۔ ایک شخص غلط بولتا۔ غلط بولتا ہے تو یہ جھٹ اس کا عیب پکڑتا ہے اور شور مچاتا ہے کہ اس کو تو ایک لفظ بھی صحیح بولنا نہیں آتا۔ غرض مختلف قسمیں تکبر کی ہوتی ہیں اور یہ سب کی سب انسان کو نیکیوں سے محروم کر دیتی ہیں اور لوگوں کو نفع پہنچانے سے روک دیتی ہیں۔ ان سب سے بچنا چاہیے۔“ بَاب ٦٢ : الْهِجْرَةُ ملاقات ترک کرنا ملفوظات جلد ۳ صفحه ۶۱۴،۶۱۳) وَقَوْلُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: کسی آدمی وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ کے لئے جائز نہیں کہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ چھوڑے رکھے۔ فَوْقَ ثَلَاثٍ۔ ٦٠٧٣، ٦٠٧٤، ٦٠٧٥ : حَدَّثَنَا ۶۰۷۳، ۶۰۷۴، ۶۰۷۵: ابوالیمان نے ہم سے أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ بیان کیا کہ شعیب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری قَالَ حَدَّثَنِي عَوْفُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: عوف بن مالک بن الطُّفَيْلِ هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ وَهُوَ ابْنُ طفيل جو کہ ۔ جو کہ حارث کے بیٹے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَخِي عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى الله کی زوجہ حضرت عائشہ کے ان کی ماں کی طرف سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُمِّهَا أَنَّ عَائِشَةَ حُدِثَتْ بھتیجے ہیں، نے مجھے بتایا کہ حضرت عائشہ کو بتایا گیا أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ قَالَ فِي بَيْعِ أَوْ کہ حضرت عبداللہ بن زبیر نے کسی خرید و فروخت عَطَاءٍ أَعْطَتْهُ عَائِشَةُ وَاللهِ لَتَنْتَهِيَنَّ یا عطیہ کے متعلق جو حضرت عائشہ نے عطا کیا تھا، عَائِشَةُ أَوْ لَأَحْجُرَنَّ عَلَيْهَا فَقَالَتْ کہا: اللہ کی قسم ! حضرت عائشہ کوڑکنا ہو گا ورنہ میں