صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 490
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۹۰ ۷۸ - كتاب الأدب حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ بیان کیا کہ حمید طویل نے ہمیں بتایا۔حضرت انس حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ كَانَتِ بن مالک نے ہم سے بیان کیا، کہا: اہل مدینہ کی الْأَمَةُ مِنْ إِمَاءِ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَتَأْخُذُ بِيَدِ لونڈیوں میں سے ایک لونڈی بھی اپنی حاجات رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے لیے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑ فَتَنْطَلِقُ بِهِ حَيْثُ شَاءَتْ۔کر آپ کو جہاں چاہتی لے جاتی۔تشریح : الكبرُ : تکبر الکباؤ کے معنی بڑائی اور عظمت کے ہیں۔لسان العرب میں ہے کہ لفظ الکی بر تناؤ ذات اور وجود کے کمال کا مفہوم دیتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو بھی اس لفظ سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔(لسان العرب - کیر) امام راغب نے لکھا ہے کہ کب ، تکبر اور استکبار قریب المعنی الفاظ ہیں۔کینڈ اُس حالت کو کہتے ہیں کہ انسان خود پسندی میں مبتلا ہو کر کسی صفت کو اپنے ساتھ مخصوص سمجھ لے اور یہ کہ وہ اپنے آپ کو دوسروں سے ممتاز اور بڑا خیال کرنے لگ جائے۔اور سب سے بڑا تکبر اللہ تعالی سے متعلق یعنی قبولِ حق سے انکار اور عبادت سے انحراف کرنا ہے۔(المفردات فی غریب القرآن - کبر) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: " تکبر کئی قسم کا ہوتا ہے۔کبھی یہ آنکھ سے نکلتا ہے جبکہ دوسرے کو گھور کر دیکھتا ہے تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔کبھی زبان سے نکلتا ہے اور کبھی اس کا اظہار سر سے ہوتا ہے اور کبھی ہاتھ اور پاؤں سے بھی ثابت ہوتا ہے۔غرضیکہ تکبر کے کئی چشمے ہیں اور مومن کو چاہیئے کہ ان تمام چشموں سے بچتا ر ہے اور اس کا کوئی عضو ایسا نہ ہو جس سے تکبر کی بُو آوے اور وہ تکبر ظاہر کرنے والا ہو۔صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاق رذیلہ کے بہت سے جن ہیں اور جب یہ نکلنے لگتے ہیں تو نکلتے رہتے ہیں مگر سب سے آخری جن تکبر کا ہوتا ہے جو اس میں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور انسان کے بچے مجاہدہ اور دعاؤں سے نکلتا ہے۔بہت سے آدمی اپنے آپ کو خاکسار سمجھتے ہیں لیکن ان میں بھی کسی نہ کسی نوع کا تکبر ہوتا ہے۔اس لیے تکبر کی باریک در بار یک قسموں سے بچنا چاہیئے۔بعض وقت یہ تکبر دولت سے پیدا ہوتا ہے۔دولت مند متکبر دوسروں کو کنگال سمجھتا ہے اور کہتا