صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 489 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 489

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۹ ۷۸ - كتاب الأدب ولولے بھر دیتے ہیں، بڑے اُن کے دلوں میں جوش پیدا ہوتے ہیں، بڑی اُمنگیں پیدا ہوتی ہیں کہ اچھا ہم بھی یہی کر کے دیکھیں گے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو دین عطا ہوا ہے نہایت ہی متوازن ہے اور اس کی ایک ایک بات میں بڑی گہری حکمت ہے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا احسان فرمایا۔جب ایک طرف قول سدید کا حکم ہے ، دوسری طرف مجاہر کے مضمون کو خوب کھول کر سامنے پیش کر دیا، دیکھو مجاہر نہ بنا۔اس سے تم بھی گناہ گار ہو گے، خدا کے ناشکرے بنو گے اور سوسائٹی میں فحشاء پھیلا دو گے۔" خطبات ،طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۷ اگست ۱۹۹۲ء، جلد ۱۱ صفحه ۵۴۷ تا ۵۴۹) بَاب ٦١ : الْكِبْرُ تکبر وَقَالَ مُجَاهِدٌ : ثَانِی عِطفه (الحج: ۱۰) اور مجاہد نے کہا: ثانی عظیفہ سے مراد ہے اپنے مُسْتَكْبِرٌ فِي نَفْسِهِ۔عِطْفُهُ رَقَبَتُهُ۔آپ کو بڑا سمجھتے ہوئے۔عطفه کے معنی ہیں اپنی گردن۔٦٠٧١: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۲۰۷۱ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مَعْبَدُ بْنُ خَالِدٍ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔معبد بن خالد قیسی نے ہم الْقَيْسِيُّ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ وَهْبٍ سے بیان کیا۔انہوں نے حضرت حارثہ بن وہب الْجُزَاعِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ خزاعی سے ، حضرت حارثہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ سے روایت کی۔آپ نے فرمایا: کیا میں تمہیں جنتی كُلُّ ضَعِيف مُتَضَاعِفٍ لَوْ أَقْسَمَ نہ بتاؤں؟ ہر کمزور جو عاجزی سے زندگی بسر کرتا اللَّهِ لَأَبَرَّهُ أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِأَهْلِ ہے، وہ جو اگر اللہ کو بھی قسم دے تو اس کی قسم کو ضرور ہی پورا کرے۔کیا میں تمہیں دوزخی نہ النَّارِ كُلُّ عُتُةٍ جَوَّاطٍ مُسْتَكْبِرٍ۔اطرافه: ٤٩١٨، ٦٦٥٧ - بتاؤں ؟ ہر ایک اکھڑ ، بد خلق، مغرور۔٦٠٧٢: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ۶۰۷۲: اور محمد بن عیسی نے کہا کہ ہشیم نے ہم سے