صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 488 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 488

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۸ ۷۸ - كتاب الأدب سے پر دے اٹھاتے ہیں اُن کے اوپر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت ڈالی ہے، اُن کو خطرناک مجرم قرار دیا ہے۔پس ان دو باتوں کو ملا کر غلط نتیجے نہ نکالیں۔جب میاں بیوی کی شادیاں ہو جائیں اس کے بعد میاں کا یا بیوی کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ پرانی باتیں جن پر خدا تعالیٰ نے پردے ڈالے ہوئے ہیں اُن کو ایک دوسرے پر کھولیں۔اگر کوئی ایسی بات ہے جس کے متعلق یہ خطرہ ہے کہ وہ بعد میں ظاہر ہو گی اور پھر تعلقات تلخ ہونگے ، اس لئے عقل کا تقاضا یہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم بھی یہی کہتی ہے کہ پہلے ہی بات کھول دو لیکن بعض ایسے جہلاء ہیں جو اپنی اچھی بھلی شادی کو بالکل اپنے ہاتھوں سے برباد کر دیتے ہیں۔اپنی بعض ایسی کمزوریوں کو پیش کرنا جن کے متعلق یہ خیال ہو کہ اگر براہ راست علم ہو تو سخت نقصان پہنچے گا، یہ تقویٰ کے خلاف نہیں بلکہ تقویٰ کے عین مطابق ہے۔لیکن اگر خدا نے پر دے ڈھانچے ہوں تو کئی بدیاں ہیں جو چھپی ہوئی غیروں کے سامنے نہیں ہیں تو اُن کی تشہیر کرنا تو بہت ہی پرلے درجے کی حماقت ہے بلکہ خود کشی ہے۔میاں بیوی کے تعلقات میں ایسی باتیں بے وجہ کھولنا جو ماضی کا حصہ بن چکیں دفن ہو گئی، یہ نیکی نہیں بلکہ بے وقوفی ہے لیکن بعض دفعہ یہی چیزیں جو ہیں جو معاشرے میں عام گند بن کر پھیل جاتی ہیں اور غالباً یہی بڑی حکمت ہے جس کے پیش نظر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہر کو نہایت ہی ظالم اور گناہ گار قرار دیا ہے۔وجہ یہ ہے کہ جو شخص اپنے بدیوں سے شرم نہیں کرتا وہی ہے جو باہر بیٹھ کر یہ باتیں کرتا ہے اور بظاہر سچ بول رہا ہے لیکن ایسا سچ ہے جو خدا کے نزدیک جھوٹ سے بھی بد تر ہے۔اس میں دو گناہ ہیں، ایک یہ گناہ کہ وہ اللہ تعالٰی کی ستاری کے پر دے کو خود اپنے ہاتھوں سے چاک کر رہا ہے اور دوسرا گناہ یہ ہے کہ ایسی باتوں سے معاشرہ گندہ ہوتا ہے۔وہ نوجوان جن کی مجالس میں یہ باتیں ہوں کہ رات ہم نے یہ گناہ کیا، رات یہ بد معاشیاں کیں، فلاں جگہ ہم نے یوں کیا، وہ ایک تو بے حیائی کے اور خدا کی ستاری کے پردہ چاک کرنے کے مرتکب تو ہیں ہی لیکن وہ نسبتا کم گناہ گار جن کی مجلس میں بیٹھے ہوتے ہیں اُن کے دلوں میں گناہ کے