صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 487
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۷ -2A - كتاب الأدب ریح : سَتَرُ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ: مومن کا اپنی پردہ پوشی کرنا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سچ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ہر جگہ اپنی برائیوں کو آپ خود اُچھالتے تھے۔یہ بھی گناہ ہے۔مگر قول سدید کے تعلق سے جہاں سو دے ہو رہے ہوں، جہاں رشتے طے ہو رہے ہوں، وہاں ضرور آپ پر فرض عائد ہو جاتا ہے کہ اس کمزوری کو ضرور ظاہر کریں جس کمزوری کے علم کے بعد فیصلہ کر سکتا ہے کہ اس نے آپ سے سودا کرنا ہے کہ نہیں کرنا۔اسی لئے حضرت اقدس محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پر وہ لعنت ڈالی جو گندم کی ڈھیری کے اوپر خشک گندم رکھ دیتا ہو اندر سے گیلی ہو۔جہاں سودے ہوں وہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصیحت یہ ہے کہ خود اپنے اندر کے دانے نکال کر دکھاؤ اور یہ بات معیوب نہیں بلکہ آپ کو پسند ہے لیکن عام حالات میں اگر انسان ان باتوں کو ظاہر کرے جن پر خدا تعالیٰ نے پردہ پوشی فرمائی ہو اور ایسے لوگوں پر ظاہر کرے جن پر ظاہر کرنا اس کے لئے فرض نہیں ہے، یہ نیکی نہیں بلکہ گناہ بن جاتا ہے۔اتنا حسین امتزاج ہے مختلف توازن کا، مختلف پہلوؤں کا کہ اسلام کی تعلیم میں بہت ہی حسین توازن پید ا ہو جاتا ہے۔پس آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم جہاں ایک طرف یہ تعلیم دے رہے ہیں کہ جب بیاہ شادی کے موقع ہوں یا تجارت کے مواقع ہوں، وہاں خود متعلقہ کمزوری کو نکال کر باہر پیش کیا کرو اور یہ سچائی ہے ، وہاں آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا: حضرت ابو ہریرہ سے ایک روایت ہے کہ میں نے خود آنحضور کو فرماتے سنا کہ میری یہ ساری اُمت قابل بخشش ہے سوائے اُن کے جو مجاہر ہے اور ہر بات کو اپنی ہر بری سے ظاہر کرنے والے اور ستاری نہ کرنے والے ہیں۔یہ بات ستاری نہ کرنے کے مترادف ہے کہ انسان رات کو کوئی کام کرے اور پھر صبح ہونے پر پھر دوسروں کو بتاتا پھرے۔کے پس وہ لوگ جو گناہ کرتے ہیں اور خود اپنے گناہوں ا (ابن ماجه، کتاب التجارات، حدیث نمبر : ۲۲۱۵) (صحيح البخاری، کتاب الادب، حدیث نمبر : ۵۶۰۸)