صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 486
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ كُلُّ أُمَّتِي سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ مُعَافًى إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ وَإِنَّ مِنَ وسلم سے سنا۔آپ فرماتے تھے: میری امت میں الْمُجَاهَرَةِ أَنْ يَعْمَلَ الرَّجُلُ بِاللَّيْلِ سے ہر ایک کو معاف کر دیا جائے گا مگر ان کو نہیں جو عَمَلًا ثُمَّ يُصْبحَ وَقَدْ سَتَرَهُ اللهُ کھلم کھلا گناہ کریں اور یہ بھی بے حیائی ہے کہ آدمی فَيَقُولَ يَا فُلَانُ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا رات کو کوئی کام کرے اور پھر صبح کو ایسی حالت میں وَكَذَا وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ الھے کہ اللہ نے اس پر پردہ پوشی کی ہوئی ہے۔تو پھر وہ یہ کہے کہ میں نے گزشتہ رات یہ یہ کیا۔حالانکہ رات اس نے ایسی حالت میں گزاری کہ اس کارت اس کی پردہ پوشی کئے رہا اور وہ صبح کو اُٹھتا يَكْشِفُ سِتْرَ اللهِ عَنْهُ۔ہے اپنے سے اللہ کے پر دے کو کھول دیتا ہے۔٦٠٧٠: حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا ۲۰۷۰: مسدد نے ہم سے بیان کیا کہ ابوعوانہ أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَفْوَانَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سے، قتادہ نے بْنِ مُحْرِزٍ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ صفوان بن محرز سے روایت کی کہ ایک شخص نے كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى الله حضرت ابن عمر سے پوچھا: آپ نے رسول اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي النَّجْوَى قَالَ صلى اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کے متعلق کیا فرماتے يَدْنُو أَحَدُكُمْ مِنْ رَّبِّهِ حَتَّى يَضَعَ نا؟ انہوں نے کہا: تم میں سے ایک اپنے ربّ كَنَفَهُ عَلَيْهِ فَيَقُولُ عَمِلْتَ كَذَا کے اتنا قریب ہو جائے گا کہ وہ اپنا پہلو اس پر جھکا دے گا اور فرمائے گا تم نے ایسا اور ایسا کیا ؟ وہ وَكَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ وَيَقُولُ عَمِلْتَ كَذَا وَكَذَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيُقَرِرُهُ ثُمَّ يَقُولُ کہے گا: ہاں۔وہ فرمائے گا: تم نے ایسا ایسا کیا؟ وہ کہے گا: ہاں۔پھر اسی طرح اس سے اقرار کرائے گا اور اس کے بعد فرمائے گا: میں نے دنیا میں تم پر پردہ پوشی کی اور میں آج بھی تمہارے گناہوں پر پردہ پوشی کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیتا ہوں۔إِنِّي سَتَرْتُ عَلَيْكَ فِي الدُّنْيَا فَأَنَا أَغْفِرُهَا لَكَ الْيَوْمَ۔أطرافه: ٢٤٤١، ٤٦٨٥، ٧٥١٤-