صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 485 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 485

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۵ ۷۸ - كتاب الأدب ظن کی عادت بڑی بُری چیز ہے۔قرآن کریم نے اسی لئے یہ نہیں فرمایا کہ بُراظن نہ کرو۔فرمایا کہ ظن سے بچنے کی کوشش کرو۔جہاں تک ممکن ہے جستجو کرو، جہاں تک ممکن ہے حقائق کی تلاش کرو۔حقائق کی جستجو تمہاری عادت ہونی چاہیئے اور ظن تمہاری عادت نہیں ہونی چاہیئے۔اگر خن تمہاری عادت بن گیا تو پھر لازما تم بعض بُرے فنوں میں بھی مبتلا ہو گے جن کی پاداش دیکھو گے اور بدقسمتی سے مشرقی دنیا میں معاشروں کی تباہی کا ایک بڑا موجب ظن کی کثرت ہے۔وَلَا يَغْتَب بَعْضُكُمْ بَعْضًا یہ اس کی پیداوار ہے۔حقائق کا سامنا کرنے کی جن قوموں کو عادت نہیں رہتی وہ پھر منہ پر بات کرنا بھی نہیں جانتے۔وہ Escape اختیار کرتے ہیں شواہد سے اور یہ بھی برداشت نہیں کر سکتے کہ ان کی بات Challange ہو جائے گی۔اس لئے فرضی باتوں کے عادی پیٹھ پیچھے باتیں کرتے ہیں، چھپ کر باتیں کرتے ہیں، چھپ کر طعن تشنیع کرتے ہیں۔اور لمز کی یہ انتہاء ہے۔لمز کہتے ہیں طعن و تشنیع جو منہ پر کی جائے، جب یہ بدی بڑھ جاتی ہے اور ناسور بن جاتی ہے یا Cancer ہو جاتی ہے تو اس سوسائٹی میں پھر سامنے کی طعن و تشنیع کو چھوڑ کر پھر غیب میں باتیں کی جاتی ہیں اور دوسرے کو اپنے دفاع کا کوئی موقع ہی نہیں مل سکتا۔یہ سب سے بڑی بد صورت اس بیماری کی ہے اور اس کا ظن سے گہرا تعلق ہے۔“ (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۲۴ جنوری ۱۹۸۶ء، جلد ۵ صفحه ۷۹ تا ۸۱) باب ٦٠: سَتْرُ الْمُؤْمِنِ عَلَى نَفْسِهِ مومن کا اپنی پردہ پوشی کرنا ٦٠٦٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ ۶۰۶۹: عبد العزیز بن عبد اللہ نے ہم سے بیان کیا عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ عَنِ کہ ابراہیم بن سعد نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن ابْنِ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ شہاب کے بھتیجے سے ، ان کے بھتیجے نے ابن شہاب عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ سَمِعْتُ سے ، ابن شہاب نے سالم بن عبد اللہ سے روایت أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ کی۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابو ہریرہ سے