صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 484
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب کی عادت اچھی نہیں ہے۔ایک بہت لطیف رنگ ہے یہ بات کو بیان کرنے کا۔اور اگر آپ جدید رحجانات سائنس کے دیکھیں تو آپ کو معلوم ہو گا کہ بہت ہی گہری سچائی ہے اس طر ز بیان میں۔جو لوگ ظن پر مائل ہوتے ہیں وہ شواہد کی تلاش چھوڑ دیتے ہیں اور جو لوگ شواہد کو فوقیت دیتے ہیں وہ ظن سے اکثر بچتے ہیں۔مجبور ہو جائیں تو ظن کرتے ہیں ورنہ وہ شواہد کے پیچھے چلتے ہیں، شواہد کی جستجو میں رہتے ہیں۔تو یہ بنیادی اصول ہے جو قوموں کے لئے بہت ہی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے اگر وہ اس کی کنہ کو پا جائیں۔سائنس نے تمام ترقی اس بات پر کی ہے کہ شواہد کی تلاش کی ہے اور اگر کوئی ظن پیدا بھی ہو ا ہے تو اس کا نام وہ Hypothesis رکھتے ہیں اور ظن پیدا ہونے کے بعد اس پر انحصار نہیں کرتے بلکہ شواہد کی جستجو شروع کر دیتے ہیں اور جب شواہد، کسی حد تک گواہ مل جائیں کہ ہاں اس ظن کے صحیح ہونے کا امکان موجود ہے تو پھر اسے کہتے ہیں اس کا نام Theory یا نظریہ ہے۔اور پھر بھی شواہد کی تلاش نہیں چھوڑتے یہاں تک کہ اور بڑھتے ہیں اور وسیع نظر کرتے ہیں۔ماضی کے شواہد بھی دیکھتے ہیں، حال کے شواہد بھی دیکھتے ہیں، مستقبل میں جو رخ اختیار کر سکتے ہیں تجارب، اُن پر بھی نظر ڈالتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ ہر لحاظ سے ہر پہلو سے وہ نظریہ درست تھا اور اس کے بدلنے کا کوئی امکان نہیں تو اس کا نام Law رکھ دیا جاتا ہے، یہ سائنس کا قانون ہے۔اگر اس کے برعکس کن پر راضی رہنے والی قو میں ہو تیں جیسا کہ مشرق میں بدقسمتی سے یہ بیماری پائی جاتی ہے تو اپنے ظن کے مطابق وہ شواہد کو موڑنے کی کوشش کرتے اور جس طرح روحانی دنیا میں گناہ ہوتے ہیں مادی دنیا میں بھی گناہ ہوتے ہیں۔مادی دنیا میں بھی بعض ظن، سوء بن جاتے ہیں۔چنانچہ جتنا کیمیا گروں نے مشرق کی دولتوں کو لٹایا ہے اور خاک کے سوا ان کے پلے کچھ بھی نہیں پڑا۔یہ سارا اسی گناہ کی پاداش ہے کہ وہ ظن میں مبتلا ہوئے، کثیراً من الظلین کے عادی ہو گئے اور بعض ظن جو غلط تھے اُن کو درست کرنے کی بجائے ان کی پاداش انہوں نے دیکھی اور قوموں کو بلندی سے تنزل کی راہ پر اُتار دیا۔تو