صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 483 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 483

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۳ كتاب الأدب النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حضرت عائشہ بیان کرتی تھیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَقَالَ يَا عَائِشَةُ مَا أَظُنُّ فُلَانًا وَفُلَانًا ایک دن میرے پاس آئے اور فرمایا: عائشہ ! میں يَعْرِفَانِ دِينَنَا الَّذِي نَحْنُ عَلَيْهِ۔نہیں خیال کرتا کہ فلاں اور فلاں شخص ہمارے اس دین کو سمجھتے ہوں جس پر ہم ہیں۔طرفه: ٦٠٦٧ - ہے۔یح : مَا يَجُوزُ مِنَ الظَّنِ یعنی گمان کیا ہوتا ہے۔انگرج کے معنی ہیں ایسا غالب خیال جس کے ساتھ اس کے خلاف کا احتمال موجود ہو۔نیز یہ لفظ یقین اور شک کے معنوں میں بھی مستعمل - (اقرب الموارد - ظن) علامہ عینی نے لکھا ہے کہ نسفی اور کشمیہنی کی روایت کے مطابق اس باب کا عنوان ما تيجوزُ مین الن ہے۔یعنی گمان میں سے جو جائز ہے اس کے بیان میں یہ باب ہے۔ان کے نزدیک یہ عنوان حدیث زیر باب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۳۸) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہر ظن گناہ نہیں ہے یہ درست ہے۔بعض ظن جو درست ہوں، حقیقت پر مبنی ہوں وہ خدا کے نزدیک گناہ نہیں لیکن ظن کرنے کی عادت خطر ناک ہے اور اس کے نتیجے میں ہرگز بعید نہیں کہ تم سے بڑے گناہ سر زد ہوں۔“ نیز فرمایا: خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۹۴، جلد ۱۳ صفحه ۸۶۸ ” یہ نہیں فرمایا کہ ظن بالکل نہ کرو کیونکہ استنباط ایک ظن کا حصہ ہے۔بعض مواقع پر بعض علامتیں ظاہر ہوں تو ظن کے بغیر چارہ نہیں۔لیکن خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ظنوں میں مبتلا نہ ہو جاؤ اپنی زندگی کو ظنوں کے سپرد نہ کر دو گویا کہ تم ظنوں کے ہو کر رہ گئے ہو۔تو ہمات، بے بنیاد باتیں سوچنا اور یہ نہیں فرمایا کہ ہر خطن گناہ ہے فرمایا: إِنَّ بَعْضَ الظَّنِ الله بہت زیادہ ظن کی عادت ڈالو گے تو بعض ظن ایسے ہوں گے ، بعض گمان ایسے ہوں گے جو گناہ بھی ہو جائیں گے۔اس لئے ہمارے محاورے میں حسن ظن اور سوئے ظن دو محاورے پائے جاتے ہیں۔تو جب فرمایا: اجتنبوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّلِن تو مراد یہ ہے کہ سوئے ظن سے بچو اور یہ کہنے کی بجائے کہ سوئے ظن سے بچو جب یہ فرمایا کہ اکثر ظن نہ کیا کرو، تو مراد یہ ہے کہ عموما ظن