صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 24
صحیح البخاری جلد ۱۴ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَفْسُهُ ۲۴ ۷۵ کتاب المرضى إِلَيْهَا السَّلَامَ وَيَقُولُ إِنَّ لِلَّهِ مَا أَخَذَ آپ نے ان کو سلام کہلا بھیجا اور یہ کہ آپ وَمَا أَعْطَى وَكُلُّ شَيْءٍ عِنْدَهُ مُسَمًّى فرماتے ہیں: اللہ ہی کا ہے جو اس نے لیا اور جو اس فَلْتَحْتَسِبْ وَلْتَصْبِرْ فَأَرْسَلَتْ تُقْسِمُ نے دیا اور ہر شے کی اس کے ہاں ایک میعاد مقرر عَلَيْهِ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ہے اس لئے وہ اس کی رضامندی کو چاہے اور صبر کرے تو انہوں نے آپ کو قسم دے کر بلا بھیجا۔وَسَلَّمَ وَقُمْنَا فَرُفِعَ الصَّبِيُّ فِي حَجْرِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر گئے اور ہم بھی گئے اور بچہ اٹھاکر بی صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں رکھا تَقَعْقَعُ فَفَاضَتْ عَيْنَا النَّبِيِّ صَلَّى گیا اور اس کا سانس اٹک رہا تھا۔یہ حال دیکھ کر نبی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ مَا صلى اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو هَذَا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ هَذِهِ رَحْمَةٌ گئے۔حضرت سعد نے آپ سے کہا: یارسول اللہ ! وَضَعَهَا اللهُ فِي قُلُوبِ مَنْ شَاءَ یہ کیا ؟ آپ نے فرمایا: یہ رحمت ہے جو اللہ نے مِنْ عِبَادِهِ وَلَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ اپنے بندوں میں سے جن کے دلوں میں چاہا ڈال إِلَّا الرُّحَمَاء۔دی اور اللہ اپنے بندوں میں سے انہی پر رحم کرتا ہے جو رحم دل ہوتے ہیں۔أطرافه : ۱۲۸ ٦٦٥٥٦٦۰۲ ٧٣٧٧، ٧٤٤٨- تشریح عِبَادَةُ الصبیان: بچوں کی عیادت کرنا۔مریض مریض ہی ہے چاہے وہ عمر کے کسی حصے میں ہو یا اس کا تعلق کسی انسانی طبقے سے ہو۔اس کی عیادت کرنا اسلامی اخلاق میں سے ایک بڑا خلق ہے۔اس سے جہاں مریض کو تسلی ملتی ہے وہاں اس کے عزیز و اقارب کو بھی عیادت کرنے والوں کی آمد سے حوصلہ ملتا ہے۔اور پھر بعض رشتے ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی موجودگی باعث تسکین ہوتی ہے اور اُن کی عدم موجودگی انسان کی تکلیف کو بڑھا دیتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک اُسوہ کا یہ پہلو آپ کی زندگی میں بہت نمایاں نظر آتا ہے۔اس کی ایک مثال زیر باب حدیث میں بیان کی گئی ہے۔جب آپ اپنے نواسے کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے اور آپ کے ساتھ صحابہ کی ایک جماعت بھی گئی۔اس موقع پر آپ نے صبر کا یہ درس بھی دیا کہ صبر اس بات کا نام نہیں ہے کہ انسان کسی عزیز کی تکلیف پر بے چین نہ ہو اور اس کا یہ اضطراب آنسوؤں کی شکل میں دکھائی نہ دے۔بلکہ جس بات سے روکا گیا ہے وہ صرف یہ ہے کہ جزع فزع نہ ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ایک دفعہ آپ کا ایک نواسہ بیمار ہوا اس کے دیکھنے کیلئے آپ کی صاحبزادی نے