صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 482
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۲ ۷۸ - كتاب الأدب نہیں ہو سکتا۔پس دن رات یہی کوشش ہونی چاہیے کہ بعد اس کے جو انسان سچا موحد ہو اپنے اخلاق کو درست کرے۔میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت اخلاقی حالت بہت ہی گری ہوئی ہے، اکثر لوگوں میں بدظنی کا مرض بڑھا ہوا ہوتا ہے۔وہ اپنے بھائی سے نیک فنی نہیں رکھتے اور ادنی ادنی سی بات پر اپنے دوسرے بھائی کی نسبت بُرے بُرے خیالات کرنے لگتے ہیں اور ایسے عیوب اس کی طرف منسوب کرنے لگتے ہیں کہ اگر وہی عیب اس کی طرف منسوب ہوں تو اس کو سخت ناگوار معلوم ہو۔اس لیے اول ضروری ہے کہ حتی الوسع اپنے بھائیوں پر بدظنی نہ کی جاوے اور ہمیشہ نیک ظن رکھا جاوے کیونکہ اس سے محبت بڑھتی ہے اور انس پیدا ہوتا ہے اور آپس میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کے باعث انسان بعض دوسرے عیوب مثلاً کینہ بغض، حسد وغیرہ سے بچارہتا ہے۔“ (ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۲۱۵،۲۱۴) بَابِ ٥٩: مَا يَجُوْزُ مِنَ الظَّنِّ گمان کیا ہو تا ہے ٦٠٦٧: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا ٢٠١٧: سعید بن عقیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث اللَّيْتُ عَنْ عُقَيْلِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عقیل سے، عقیل نے عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ ابن شہاب سے ، ابن شہاب نے عروہ سے ، عروہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَظُنُّ فُلَانًا نے حضرت عائشہ سے روایت کی۔فرماتی تھیں: وَفُلَانًا يَعْرِفَانِ مِنْ دِينِنَا شَيْئًا۔قَالَ في صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں سمجھتا کہ اللَّيْثُ كَانَا رَجُلَيْنِ مِنَ الْمُنَافِقِينَ۔فلاں فلاں شخص ہمارے دین میں سے کچھ سمجھتے ہیں۔لیث نے کہا: وہ منافقوں سے دو شخص تھے۔طرفه: ٦٠٦٨ - ٦٠٦٨: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۶۰۶۸ يحي بن نگیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بِهَذَا وَقَالَتْ دَخَلَ عَلَيَّ نے یہی حدیث ہمیں بتائی (اور اس میں ہے) کہ فتح الباری مطبوعہ انصاریہ میں "ما تكون“ ہے۔(فتح الباری جزء ء ا حاشیہ صفحہ ۵۹۶) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔