صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 481
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۱ ۷۸ - كتاب الأدب أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ قَالَ إِيَّاكُمْ وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ علیہ وسلم نے فرمایا: دیکھنا اپنے آپ کو بد گمانی سے الْحَدِيثِ وَلَا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا بچانا کیونکہ بد گمانی بہت ہی بڑا جھوٹ ہے۔اور ٹوہ میں نہ لگے رہو اور نہ ہی عیبوں کو ڈھونڈو اور دکھ وَلَا تَنَاجَشُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا دینے کے لئے قیمتیں نہ بڑھاؤ اور نہ آپس میں حسد تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ کرو اور نہ بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے کی ملاقات إخْوَانًا۔أطرافه: ٥١٤٣، ٦٠٦٤، ٦٧٢٤ - یح چھوڑو اور بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ۔يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ القلن : یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہو۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نصیحت کے طور پر کہتا ہوں کہ اکثر سوء ظنیوں سے بچو۔اس سے سخن چینی اور عیب جوئی کی عادت بڑھتی ہے۔اسی واسطے اللہ کریم فرماتا ہے: وَلَا تَجَسَّسُوا۔تجسس نہ کرو۔تجس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کسی کی نسبت سوء ظن کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب مل جاویں اور پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے۔اور یہ خیال کر کے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کو کیا جواب دوں گا۔اپنی بدظنی کو پورا کرنے کے لئے تجسس کرتا ہے اور پھر تجس سے غیبت پیدا ہوتی ہے۔جیسے فرمایا اللہ کریم نے: وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا۔غرض خوب یاد رکھو سوء ظن سے تجسس اور تجسس سے غیبت کی عادت شروع ہوتی ہے۔“ (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحہ ۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: ”جب تک انسان کی اخلاقی حالت بالکل درست نہ ہو وہ کامل ایمان جو منعم علیه گروه میں داخل کرتا ہے اور جس کے ذریعہ سچی معرفت کا نور پیدا ہوتا ہے اس میں داخل