صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 480 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 480

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۸۰ ۷۸ - كتاب الأدب سے زیادہ حکم نہیں ہے کہ کوئی مومن دوسرے مومن سے بات نہ کرے۔پھر ایک روایت میں آتا ہے ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک لوگوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ وہ شخص ہے جو سب سے زیادہ جھگڑالو ہو یعنی اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا۔پس ہر احمدی کو چاہیے کہ تقویٰ اختیار کرے اور خد اتعالیٰ کا پسندیدہ بننے کی کوشش کرے، آپس کے جھگڑوں اور لڑائیوں اور فسادوں کو ختم کریں۔مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ ایک طرف تو ایمان لانے کا دعویٰ ہو اور دوسری طرف اپنے بھائی کے گناہ نہ بخشا ہو۔اس کی غلطیاں نہ معاف کر سکتا ہو۔کیونکہ ایسے لوگ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ ترین شخص ہوں گے۔(خطبات مسرور ، خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۷، ستمبر ۲۰۰۴، جلد ۲ صفحه ۶۷۴ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: ”خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے۔اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا۔تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں۔وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۲) باب ٥٨ : يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّن إِنَّ بَعْضَ الظَّلِنِ اثْهُ وَلَا تَجَسَّسُوا (الحجرات: ۱۳) اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بہت سے گمانوں سے بچتے رہو کیونکہ کوئی گمان گناہ بھی ہوتا ہے اور عیب نہ ٹٹولو ٦٠٦٦: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ :٢٠٢٦ عبد الله بن یوسف نے ہم سے بیان کیا أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ کہ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالزناد سے، الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ ابوالزناد نے اعرج سے، اعرج نے حضرت ابوہریرہ ا (صحيح البخاري، كتاب التفسير، بأب وهو الد الخصام)