صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 479
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۹ ۷۸ - كتاب الأدب سے ہے۔اسی طرح تمام اخلاق ذمیمہ کا حال ہے کہ وہ ہماری ہی بد استعمالی یا افراط اور تفریط سے بد نما ہو جاتی ہیں اور موقعہ پر استعمال کرنے اور حد اعتدال پر لانے سے وہی اخلاق ذمیمہ اخلاق فاضلہ کہلاتے ہیں۔“ (کتاب البریہ ، روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۶۷) نیز فرمایا: اصل میں صفات کل نیک ہوتے ہیں۔جب اُن کو بے موقعہ اور ناجائز طور پر استعمال کیا جاوے تو وہ بُرے ہو جاتے ہیں اور اُن کو گندہ کر دیا جاتا ہے لیکن جب اُن ہی صفات کو افراط تفریط سے بچا کر محل اور موقعہ پر استعمال کیا جاوے تو ثواب کا موجب ہو جاتے ہیں۔قرآنِ مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے: مِنْ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حسَدَ (الفلق :۶) اور دوسری جگہ الشیقُونَ الْأَوَّلُونَ۔اب سبقت لے جانا بھی تو ایک قسم کا حسد ہی ہے۔سبقت لے جانے والا کب چاہتا ہے کہ اس سے اور کوئی آگے بڑھ جاوے۔یہ صفت بچپن ہی سے انسان میں پائی جاتی ہے۔اگر بچوں کو آگے بڑھنے کی خواہش نہ ہو تو وہ محنت نہیں کرتے اور کوشش کرنے والے کی استعداد بڑھ جاتی ہے۔سابقون گویا حاسد ہی ہوتے ہیں لیکن اس جگہ حسد کا مادہ مصفی ہو کر سابق ہو جاتا ہے۔اسی طرح حاسد ہی بہشت میں سبقت لے جاویں گے۔“ (ملفوظات جلد ۳ صفحه ۱۹۷) وَلَا تَدابَرُوا : یعنی ایک دوسرے کی ملاقات کو نہ چھوڑو۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: لڑائی جھگڑوں میں کئی کئی مہینے بلکہ سالوں ناراضگیاں چلتی ہیں۔لیکن ایک مومن کے لئے یہ حکم ہے کہ اس کو صلح کرنے میں جلدی کرنی چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی مسلمان کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلقی کرے ، یعنی بول چال بند رکھے۔بعض دفعہ حیرت ہوتی ہے یہ باتیں سن کر کہ قریبی رشتہ دار آپس میں بعض دفعہ مہینوں ایک دوسرے سے بات نہیں کرتے اور جس بات پر لڑائی یار بخش ہو وہ بالکل معمولی سی بات ہوتی ہے تو ایسے لوگوں کو ہمیشہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سامنے رکھنا چاہیئے کہ اول تو لڑنا ہی نہیں ہے۔اگر کوئی لڑائی ہو بھی گئی ہے ، کوئی وجہ بن بھی گئی ہے تو تین دن