صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 478
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۸ ۷۸ - كتاب الأدب وَالظَّنَّ فَإِنَّ الظَّنَّ أَكْذَبُ الْحَدِيثِ وَلَا علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: دیکھنا تَحَسَّسُوا وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا تَحَاسَدُوا اپنے آپ کو بد گمانی سے بچاتے رہنا کیونکہ بد گمانی وَلَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَدَابَرُوا وَكُونُوا عِبَادَ نہایت ہی جھوٹی بات ہے اور ٹوہ نہ لگاتے رہو اور اللَّهِ إِخْوَانًا۔ أطرافه: ٥١٤٣، ٦٠٦٦، ٦٧٢٤۔ نہ تجسس کرو اور نہ آپس میں حسد رکھو اور نہ آپس میں بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے کی ملاقات کو چھوڑو اور بھائی بھائی ہو کر اللہ کے بندے بن جاؤ۔ ٦٠٦٥ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۶۰۶۵: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے زہری سے روایت کی۔ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ انہوں نے کہا: حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نے مجھ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تَبَاغَضُوا وَلَا تَحَاسَدُوا وَلَا تَدَابَرُوا نے فرمایا: آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ حسد کرو وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا وَلَا يَحِلُّ اور نہ ایک دوسرے کی ملاقات کو چھوڑو اور بھائی لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثَةِ بھائی ہوکر اللہ کے بندے بن جاؤ اور کسی مسلمان کو جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو تین دن سے زیادہ أَيَّامٍ۔ طرفه: ٦٠٧٦ - چھوڑ رکھے۔ تشريح : مَا يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُلِ وَالتَّدَائِر : آپس میں حسد کرنے اور ایک دوسرے سے ملاقات ترک کرنے سے جو روکا جائے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: خدا نے کسی بڑی قوت کو ہمیں نہیں دیا۔ اور در حقیقت کوئی بھی قوت بڑی نہیں صرف اس کی بد استعمالی بری ہے۔ مثلاً تم دیکھتے ہو کہ حسد نہایت ہی بری چیز ہے۔ لیکن اگر ہم اس قوت کو بُرے طور پر استعمال نہ کریں تو یہ صرف اس رشک کے رنگ میں آجاتی ہے جس کو عربی میں غبطہ کہتے ہیں یعنی کسی کی اچھی حالت دیکھ کر خواہش کرنا کہ میری بھی اچھی حالت ہو جائے۔ اور یہ خصلت اخلاق فاضلہ میں