صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 477
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۷ ۷۸ - كتاب الأدب مراتب تین ہی ہیں۔ اول انسان عدل کرتا ہے یعنی حق کے مقابل حق کی درخواست کرتا ہے۔ پھر اگر اس سے بڑھے تو مرتبہ احسان ہے اور اگر اس سے بڑھے تو احسان کو بھی نظر انداز کر دیتا ہے اور ایسی محبت سے لوگوں کی ہمدردی کرتا ہے جیسے ماں اپنے بچہ کی ہمدردی کرتی ہے یعنی ایک طبعی جوش سے نہ کہ احسان کے ارادہ سے۔“ 66 (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۱۲۷) تَرْكُ إِثَارَةِ الشَّرِ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ : معنونہ تینوں آیات میں لفظ بھی مشترک ہے۔ اس کے معنی ظلم، مجرم اور نافرمانی ہیں۔ ہر زیادتی اور حد سے بڑھ جانا بھی بھی یعنی بغاوت کہلاتا ہے۔ (اقرب الموارد - بغی) علامہ ابن بطال نے معنونہ آیات و حدیث کا باہمی تعلق بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب بھی سے روکا ہے تو جان لو کہ اس کا نقصان باغی کو ہی ہوتا ہے اور جس پر زیادتی اور ظلم کیا جاتا ہے اُس کی تو مدد کرنے کی اللہ تعالیٰ نے ضمانت دی ہوتی ہے۔ اور اس پر لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسانوں پر اس کا شکر اس طرح بھی ادا کرے کہ زیادتی کرنے والے سے عفو و درگزر کا سلوک رکھے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو کرنے والے کو سزا نہ دے کر اس کی مثال قائم فرمائی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحه ۵۸۹) علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ ان آیات کو لا کر امام بخاری نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ شر کو پھیلانے سے رکنا واجب ہے خواہ مقابل پر کوئی مسلمان ہو یا کافر۔ اور احسان کا لفظ بر اسلوک کرنے والے سے احسان کرنے اور اس کی برائی پر اس سے بدلہ نہ لینے پر دلالت کرتا ہے۔ نیز تَرْكُ إِثارة الشر کی وضاحت کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ مسلمان ہونا یہ تقاضا کرتا ہے کہ تمام لوگوں سے شر کو بجھا دیا جائے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحه ۱۳۴) بَاب ٥٧ : مَا يُنْهَى عَنِ التَّحَاسُدِ وَالتَّدَابُرِ آپس میں حسد کرنے اور ایک دوسرے سے ملاقات ترک کرنے سے جو روکا جائے وَقَوْلُهُ تَعَالَى: وَمِنْ شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اور ہر حاسد کی شرارت حَسَدَ (الفلق : ٦) سے (بھی) جب وہ حسد پر تل جاتا ہے۔ ٦٠٦٤ : حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ۶۰۶۴ : بشر بن محمد نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ (بن مبارک) نے ہمیں بتایا۔ معمر نے ہمیں خبر هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّةٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ دی۔ انہوں نے ہمام بن منبہ سے ، ہمام نے حضرت النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِيَّاكُمْ ابو ہریرہ سے ، حضرت ابوہریرہ نے نبی صلی اللہ