صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 476 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 476

صحیح البخاری جلد ۱۴ زُرَيْقٍ حَلِيفٌ لِيَهُودَ۔۷۸ - كتاب الأدب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَّا اللهُ فَقَدْ شَفَانِي وَأَمَّا مہندی کے پانی کی طرح ہے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم أَنَا فَأَكْرَهُ أَنْ أُثِيرَ عَلَى النَّاسِ شَرًّا نے اس کے متعلق حکم دیا اور وہ نکالا گیا۔حضرت قَالَتْ وَلَبِيدُ بْنُ أَعْصَمَ رَجُلٌ مِّنْ بَنِي عائشہ بیان کرتی تھیں: میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے یہ کیوں نہ کیا؟ یعنی آپ نے جادو کو کھلوایا کیوں نہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے تو مجھے شفادے دی ہے اور میں بھی اس بات کو نا پسند کرتا ہوں کہ لوگوں کے برخلاف شر کو بھڑ کاؤں۔حضرت عائشہ بیان کرتی تھیں کہ لبید بن اعصم بنو زُریق میں سے ایک شخص تھا جو یہودیوں کا حلیف تھا۔أطرافه: ٣١٧٥، ٣٢٦٨ ٥٧٦٣، ٥٧٦٥، 75٦٦، 1391- يح : إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَ ايْتَائِي ذِی القربی بین الله کم دیتا ہے کہ تم عدل اور احسان کرو اور قریبیوں کا سا سلوک کرو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ ملاقات وغیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوسی اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے: اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْإِحْسَانِ وَابْتَائِي ذِى القربي (النحل: 91) تو یہ کامل طریق ہے ملفوظات جلد ۳ صفحہ ۳ صفحه ۴۷۳) نیز فرمایا: " اللہ تعالیٰ حکم کرتا ہے کہ تم عدل کرو اور عدل سے بڑھ کر یہ ہے کہ باوجو د رعایت عدل کے احسان کرو اور احسان سے بڑھ کر یہ ہے کہ تم ایسے طور سے لوگوں سے مروت کرو کہ جیسے کہ گویا وہ تمہارے پیارے اور ذوالقربیٰ ہیں۔اب سوچنا چاہیئے کہ