صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 474 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 474

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۴ ۷۸ - كتاب الأدب جانتے ہی نہیں شرافت اور نیکی کیا ہے۔دوسرا پہلو علم کا یہ ہے کہ بعض دفعہ انسان کو اس چیز کا پتہ ہی نہیں ہوتا وہ ایک چیز کو دیکھتا ہے کہ روشن اور خوبصورت ہے مگر سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ یہ اپنی ذات میں زہر ہے۔مثلاً ایک سانپ ہوتا ہے بچہ اُس پر ہاتھ پھیر تا اور سمجھتا ہے کہ کیسا نرم ہے مگر وہ اُسے ڈس لیتا ہے اُس کی ذات کے اندر جو برائیاں ہوتی ہیں ان کا اسے علم نہیں ہوتا۔یہ علم کی کمی کی دوسری مثال ہے کہ انسان اس چیز کی حقیقت سے ہی ناواقف ہوتا ہے۔سانپ کی چمکتی ہوئی آنکھیں اور نرم جسم دیکھ کر بچہ خیال کرتا ہے کہ کیسا خوبصورت ہے مگر اسے یہ علم نہیں ہو تا کہ ابھی ڈس کر اُسے مار دے گا۔تو علم کی کمی کی وجہ سے یا علم کی غلطی کی وجہ سے لوگ تعریف کر دیتے ہیں۔پھر کبھی تعریف علم کے ماتحت تو ہوتی ہے مگر دل سے نہیں ہوتی۔مثلاً ایک شخص بھوکا ہے اسے کئی روز کا فاقہ وہ دیکھتا ہے کہ ایک آدمی کسی دوسرے بھوکے کو کھانا کھلا رہا ہے، اب اس کی زبان تو کہتی ہے کہ کیسا نیک دل آدمی ہے مگر اس کا دل یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ کاش ! مجھے بھی کھلاتا۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۳ اکتوبر ۱۹۳۶ء، جلد ۷ اصفحه ۶۹۱،۶۹۰) بَابِ ٥٦: قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى اِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَابْتَائِ ذِي الْقُرْبَى وَيَنْغَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ وَالْبَغْيِ يَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (النحل: ٩١) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی اللہ حکم دیتا ہے کہ تم عدل اور احسان کرو اور قریبیوں کا سا سلوک کرو اور بے حیائی اور نا پسندیدہ باتوں اور ظلم سے روکتا ہے تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم نصیحت پکڑو وَقَوْلُهُ: إِنَّمَا بَغْيُكُم عَلَى أَنْفُسِكُمْ اور اس کا یہ فرمانا: یعنی تمہاری سرکشی کا وبال تمہاری (يونس: ٢٤) وَقَوْلُهُ ثُمَّ بُغِى عَلَيْهِ اپنی ہی جانوں پر ہے اور فرمایا: یعنی پھر جس پر لَيَنْصُرَنَّهُ اللهُ (الحج: (٦١) وَتَرْكِ إِشَارَةِ زیادتی کی گئی تو اللہ اس کی ضرور ہی مدد کرے گا۔الشَّرِ عَلَى مُسْلِمٍ أَوْ كَافِرٍ۔اور فساد نہ بھڑکانا، مسلمان کے برخلاف یا کافر کے بر خلاف۔