صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 473 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 473

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۳ ۷۸ - كتاب الأدب کے ہر فرد میں خواہ وہ اپنے کردار کی گراوٹ میں کہیں تک پہنچ چکا ہو پھر بھی کچھ خوبیاں رہتی ہیں۔ بعض چوروں اور بدکاروں میں بھی بعض ایسی بنیادی خوبیاں قائم رہتی ہیں کہ جن کے نتیجہ میں اُن کے لئے ہر وقت واپسی اور توبہ کا امکان روشن رہتا ہے۔ تو ہر شخص کی خوبیوں کے ذریعہ آپ کا اُس سے رابطہ ہونا چاہیے۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: " (خطبات طاہر، خطبہ جمعہ فرموده ۲۹ نومبر ۱۹۹۱ء، جلد ۱۰ صفحه ۹۳۲) ثناء کے اصل معنے دہرانے کے ہوتے ہیں اور تعریف کو ثناء اس لئے کہتے ہیں کہ ذکر خیر لوگوں میں پھیل جاتا ہے اور لوگ وقتا فوقتا اس کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔ (مفردات) یہ ظاہر ہے کہ ثناء میں ذاتی تجربہ سے زیادہ لوگوں میں ذکر خیر کے پھیلنے کی طرف اشارہ ہے۔ مدح کا لفظ جھوٹی اور سچی دو نو قسم کی تعریف کے لئے استعمال ہوتا ہے چنانچہ حدیث میں آتا ہے: احْثُوا فی وجوهِ الْمَدَا حِينَ الثَّرَابَ (مسند احمد بن حنبل جلد (۶) جھوٹی تعریف کرنے والوں کے مونہوں پر مٹی ڈالو۔ اسی طرح مدح ان اعمال کے متعلق بھی ہو سکتی ہے جو بغیر اختیار کے ہوں۔“ ( تفسیر کبیر ، سورۃ الفاتحہ، زیر آیت الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ ، جلد اول صفحہ ۱۹،۱۸) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: سچی تعریف ہمیشہ دو طرح سے ہی ہو سکتی ہے، ایک علم کے ماتحت ہو اور دوسرے دل سے نکلتی ہو۔ سچی تعریف کیلئے یہ دو شرطیں ایک وقت میں ضروری ہیں۔ ممکن ہے ایک تعریف علم کے ماتحت ہو مگر دل سے نہ نکلے اور یہ بھی ممکن ہے ایک تعریف دل سے نکلے مگر علم علم کے ماتحت نہ ہو۔ ایک گاؤں میں چلے جاؤ کئی پارٹیاں نظر آئیں گی، ایک دوسری کو قتل کرنے والی اور مال و اسباب لوٹنے والی۔ اُن میں سے ہر ایک مجلس میں بیٹھو وہ اپنے لیڈر کی تعریف کرتی ہو گی کہ وہ بڑے اچھے آدمی ہیں، بڑے شریف ہیں اور بڑے نیک ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں جس نے دوست سے نیکی کی وہ نیک ہے۔ دشمن سے ظلم کو بھی وہ نیکی سمجھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ دشمن سے جتنا ظلم بھی کیا جائے وہ نیکی ہی ہے۔ ڈاکو ، فاسق، فاجر اور بدمعاش کی تعریف میں ان کی زبانیں خشک ہوتی ہیں۔ وہ تعریف دل سے تو کرتے ہیں مگر علم کے ماتحت نہیں کیونکہ وہ