صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 23 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 23

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۳ ۷۵ - کتاب المرضى ام درداء حضرت ابو درداء کی دو بیویوں کی کنیت ہے۔ بڑی زوجہ کو اہم درداء کبری کہتے ہیں وہ صحابیہ تھیں اور ان کا نام خیرہ تھا۔ اُتم درداء صغری یعنی چھوٹی زوجہ کا نام ہجیمہ تھا اور وہ تابعیہ تھیں۔ امام ابن حجر کے نزدیک یہاں اُتم درداء صغری مراد ہیں، کیونکہ اُم درداء کبری کی وفات تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں حضرت ابو درداء کی وفات سے قبل ہو چکی تھی اس لیے حارث بن عبید اُن سے نہیں ملے۔ اُتم درداء صغریٰ عبد الملک بن مروان کے دورِ حکومت کے آخر تک زندہ رہیں وہ ایک فقیہہ تھیں۔ ان کی وفات حضرت ام درداء کبری سے تقریباً پچاس سال بعد سن ۸۱ ہجری میں ہوئی ہے۔ ( فتح الباری جزء ۰ ۱ صفحہ ۱۴۶) شَامَةٌ وَطَفِيلُ : شامہ اور طفیل مکہ کے دو پہاڑ ہیں۔ علامہ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ دو پہاڑ ہیں جبکہ خطابی کے نزدیک یہ دو چشمے ہیں۔ ( فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۱۴۶) وَانْقُلْ حُمَّاهَا فَاجْعَلْهَا بِالْجُعْفَة : اس کے بخار کو یہاں سے لے جاکر جحفہ میں ڈال دے۔ جحفہ بخار کی آماجگاہ تھا وہاں کا ایک چشمہ عين الحمّی کے نام سے معروف تھا۔ علامہ بدرالدین عینی لکھتے ہیں کہ مجحفہ مکہ اور مدینہ کے در میان ایک جگہ کا نام ہے۔ اس کا ایک نام مہیعہ بھی بیان کیا گیا ہے۔ نیز لکھتے ہیں کہ مجنہ ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر ہے اور زمانہ جاہلیت میں وہاں بازار تھا۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۱ صفحہ ۲۱۷) بَاب ۹ : عِيَادَةُ الصَّبْيَانِ بچوں کی عیادت کرنا ٥٦٥٥ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۵۶۵۵ : حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ شعبہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَخْبَرَنِي عَاصِمٌ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے کہا۔ عاصم نے مجھے خبر قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ عَنْ أَسَامَةَ دی۔ عاصم نے کہا میں نے ابو عثمان (نہدی) سے سنا۔ وہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما سے بْنِ زَيْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ ابْنَةً روایت کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ ایک بیٹی نے آپ کو بلا بھیجا اور اس وقت وہ اور إِلَيْهِ وَهُوَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ حضرت سعد اور حضرت ابی نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمَ وَسَعْدٌ وَأَبَيَّ نَحْسِبُ أَنَّ کے پاس تھے۔ وہ جھتی تھی کہ میری بیٹی کی ابْنَتِي قَدْ حُضِرَتْ فَاشْهَدْنَا فَأَرْسَلَ کا وقت آن پہنچا ہے۔ آپ ہمارے پاس آئیں۔ موت ا ایک نسخہ کے مطابق اس جگہ تحسیب کی بجائے لفظ تحسب ہے۔ (الصحیح البخاری مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی، کتاب المرضى باب عيادة الصبيان، جلد ۲ صفحه ۸۴۴، حاشیہ نمبر ۱۲)