صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 472
۴۷۲ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب بلاشبہ تعریف کرنا ہمیشہ غلط نہیں ہو تا بلکہ بعض اوقات تو ضروری اور فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہے، اس لیے سچی اور جائز تعریف کرنا منع نہیں ہے۔اگلا باب اسی امر کی وضاحت میں ہے۔ہاں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا وَحَسِيبُهُ الله (روایت نمبر (۲۰۶) کو ملحوظ رکھتے ہوئے محتاط الفاظ کا استعمال کرنا چاہیئے کہ میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسا ایسا ہے اور اس کی حقیقت جاننے والا تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔بَاب ٥٥: مَنْ أَثْنَى عَلَى أَخِيهِ بِمَا يَعْلَمُ جس نے اپنے بھائی کی وہ تعریف کی جو وہ جانتا ہے وَقَالَ سَعْدٌ مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى الله اور حضرت سعد نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى وسلم سے نہیں سنا کہ آپ کسی کے لئے بھی جو زمین الْأَرْضِ إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا لِعَبْدِ پر چلتا ہو یوں فرماتے ہوں کہ وہ جنتیوں میں سے ہے مگر حضرت عبد اللہ بن سلام کے لئے۔اللهِ بْن سَلَامٍ۔٦٠٦٢: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ :۶۰۶۲ علی بن عبد اللہ (مدینی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔موسیٰ بن عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ عقبہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے سالم سے، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ ذَكَرَ سالم نے اپنے باپ سے روایت کی کہ رسول اللہ فِي الْإِزَارِ مَا ذَكَرَ قَالَ أَبُو بَكْرِ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب تہ بند کے متعلق ذکر کیا جو آپ نے کیا۔تو حضرت ابو بکر نے عرض کیا: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ إِزَارِي يَسْقُطُ مِنْ یارسول اللہ ! میرا نہ بند ایک طرف سے گر پڑتا أَحَدِ شِقَيْهِ قَالَ إِنَّكَ لَسْتَ مِنْهُمْ۔أطرافه: ٣٦٦٥ ٥٧٨٣، ٥٧٨٤ ٥٧٩١۔ہے۔آپ نے فرمایا: تم ان میں سے نہیں ہو۔تشريح : مَنْ أَثْنَى عَلَى أَخِيهِ مَا يَعْلَمُ : جس نے اپنے بھائی کی وہ تعریف کی جو وہ جانتا ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”جھوٹی تعریف نہیں کرنی چاہیئے۔اس کا تو کسی مؤمن کے لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔مگر ہر شخص کی سچی تعریف کرنے کے امکانات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے جو چیز بھی پیدا کی ہے، کوئی ایک بھی اس میں سے ایسی نہیں جو خو بیوں سے عاری ہو اور ہر جنس