صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 471
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۷۱ ۷۸ - كتاب الأدب عَنْ خَالِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے خالد سے، خالد بَكْرَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا ذُكِرَ عِنْدَ نے عبد الرحمن بن ابی بکرہ سے، عبد الرحمن نے اپنے النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْنَى باپ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عَلَيْهِ رَجُلٌ خَيْرًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى پاس ایک شخص کا ذکر کیا گیا تو ایک شخص نے اس اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَكَ قَطَعْتَ عُنُقَ کی اچھی تعریف کی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صَاحِبِكَ يَقُولُهُ مِرَارًا إِنْ كَانَ تم پر افسوس! تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ أَحَدُكُمْ مَادِحًا لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ ڈالی۔آپ بار بار یہی فرماتے رہے۔اگر تم میں سے کسی نے ضرور ہی تعریف کرنی ہے تو یوں کہے: میں أَحْسِبُ كَذَا وَكَذَا إِنْ كَانَ يَرَى أَنَّهُ سمجھتا ہوں کہ ایسا ایسا ہے ، اگر اس کو یہ معلوم ہو کہ كَذَلِكَ وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا يُزَكِّي عَلَى اللهِ أَحَدًا۔وہ ایسا ہے۔اللہ اس کا حساب جاننے والا ہے اور اللہ کے نزدیک کسی کو پاک و صاف نہ ٹھہرائے۔قَالَ وُهَيْبٌ عَنْ خَالِدٍ وَيْلَكَ۔وہیب نے خالد سے روایت کرتے ہوئے (ونحك کی بجائے) وَيُلكَ نقل کیا ہے۔اطرافه: ٢٦٦٢، ٦١٦٢۔تشریح: مَا يُكْرَهُ مِن المادح: تعریف میں مبالغہ کرنا جو مکروہ ہے۔لفظ المادح مدح سے باب تفاعل کا صیغہ ہے یعنی مدح میں مبالغہ کرنا۔اور المدح کے معنی ہیں تکلف سے یعنی جھوٹی اور بناوٹی تعریف کرنا۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۵۸۴) علامہ عینی بیان کرتے ہیں کہ یہ باب لوگوں کی مبالغہ آمیز اور حد سے متجاوز مدح سرائی کے بارے میں ہے جو نا پسندیدہ ہے۔یعنی کسی شخص کی تعریف میں مبالغہ سے کام لینا جبکہ وہ بات اُس میں موجود ہی نہ ہو اور اس کی وجہ سے وہ خود پسندی میں مبتلا ہو کر ایسا گمان کرنے لگ جائے کہ حقیقت میں وہ اس مقام پر ہے۔اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جب تم نے کسی کی ایسی خوبی بیان کی جو اس میں ہے ہی نہیں تو تم نے اس آدمی کی پیٹھ توڑ دی، کیونکہ ایسی بات بسا اوقات خود پسندی، تکبر اور فضول کاموں کی طرف لے جاتی اور زیادتِ خیر و فضل ( کی جستجو ) چھڑوا دیتی ہے۔(عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۳۲) سنن ابن ماجہ میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جھوٹی اور مبالغہ آمیز تعریف سے بچو کیونکہ یہ تو ذبح کر دینا ہے۔ا (سنن ابن ماجه، کتاب الأدب، باب المدح )