صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 468 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 468

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۸ ۷۸ - كتاب الأدب کام کیا ہے تو یہ صحیح نہیں۔ایسی باتوں کے متعلق خاموش رہنا ثواب نہیں بلکہ گناہ ہو گا۔پس اگر کوئی ایسی بات کو چھپاتا ہے جو جماعت کے خلاف ہے جماعت کے قائم مقام کے خلاف ہے تو وہ گناہ کرتا ہے۔کیونکہ جس طرح کسی کا عیب بلا وجہ بیان کرنا گناہ ہے اسی طرح اگر کوئی مجرم کا ارتکاب کر رہا ہو تو اس کا چھپانا منع ہے۔ایسے فعل چار قسم کے ہوتے ہیں۔(۱) اگر کوئی حکومت یا امام کے خلاف شرارت کر رہا ہو تو اس کا چھپانا منع ہے۔(۲) اگر کوئی ایسا فعل کر رہا ہو کہ اس کی ذات کو اس سے نقصان پہنچنے والا ہو مثلاً کوئی شخص زہر کھانے لگا ہو ، اُس کو اگر کوئی شخص ایسا ہے جو روک سکتا ہے تو اسے نہ بتانا گناہ ہے۔(۳) یہ کہ ایک ایسا عیب ہے جس کے بیان نہ کرنے سے اس کی ذات کو نقصان پہنچتا ہو مثلاً کسی نے اس کا مال دبا لیا ہو اور وہ قاضی کے پاس عدالت میں جاکر اس بات کو بیان نہ کرے تو اُسے مال کس طرح مل سکے گا۔تو ایسی باتوں کا بیان کرنا بھی جائز ہے۔ہاں اگر بیان نہ کرے تو گناہ نہیں ہے یا مثلاً کسی نے اس کو مارا، اس کے لئے جائز ہے کہ عدالت میں جائے اور اس واقعہ کو بیان کرے لیکن اگر نہ جائے اور نہ بیان کرے تو یہ اس کے لئے ناجائز نہیں ہو گا۔پہلی دو باتیں جو میں نے بیان کی ہیں اُن کا نہ بیان کرنا گناہ کرنا ہے اور بیان کرنا ثواب کا کام ہے لیکن یہ ایسی ہے کہ نہ بیان کرنا گناہ نہیں اور بیان کرنا جائز ہے۔اس میں میں نے ایک شرط لگائی ہے اُس کو مد نظر رکھنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اس عیب کو بیان کرنا چاہیئے جو اس کی ذات کے لئے فائدہ مند ہو یعنی جو عیب بیان کرے اسی میں اس کا فائدہ ہو۔مثلاً کسی نے مارا ہے اور اس بات کو بیان کر کے بدلہ لینے میں اس کا فائدہ ہے لیکن اگر کسی نے تھپڑ مارا ہو اور اس کا جھوٹ بیان کرتا پھرے تو یہ ناجائز ہو گا۔اس کا مجسٹریٹ کے پاس جاکر کہنا کہ فلاں نے مجھے تھپڑ مارا ہے، یہ تو جائز ہے لیکن اگر وہ جاکر یہ کہے کہ فلاں جھوٹ بولتا ہے یا اس کا کوئی