صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 467 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 467

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۷ ۷۸ - كتاب الأدب عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَتَمَعَّرَ وَجْهُهُ صلى اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔میں نے آپ کو وَقَالَ رَحِمَ اللهُ مُوسَى لَقَدْ أُوذِيَ بتایا۔آپ کا چہرہ متغیر ہو گیا اور فرمایا: اللہ موسیٰ پر بِأَكْثَرَ مِنْ هَذَا فَصَبَرَ۔رحم کرے۔ان کو اس سے زیادہ ستایا گیا۔انہوں نے صبر کیا۔أطرافه: ۳۱٥۰، ٤٠٥، ٤٣٣٥، ٤٣٣٦، ٦١٠٠، ٦٢٩١، ٦٣٣٦- تشريح۔مَنْ أَخْبَرَ صَاحِبَهُ بِمَا يُقَالُ فِیهِ: جس نے اپنے ساتھی کو ایسی بات بتائی جو اس کے متعلق کہی جاتی ہو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”ایک ایسا شخص ہے جو جماعت یا قوم کے خلاف کوئی سازش کرتا ہے یا بُری باتیں پھیلاتا ہے تو اس کے متعلق اطلاع دینا اور اس کی شرارتوں سے ذمہ دار لوگوں کو آگاہ کرناضروری ہے۔اسی طرح کسی کو پتہ لگے کہ زید بکر کو قتل کرنا چاہتا ہے اگر وہ بکر کو نہیں بتاتا یا گورنمنٹ کو اس کی اطلاع نہیں دیتا تو گناہ کرتا ہے۔یہ غیبت نہیں ہو گی اور اس کا بیان کرناضروری ہوگا۔تو کسی بات کے بیان کرنے اور بتانے میں یہ دیکھنا چاہیئے کہ اس کے بیان کرنے میں نفع ہے یا نقصان۔اگر اس سے کوئی اچھا نتیجہ نکلتا ہو، کسی بُرائی کا سدباب ہوتا ہو، کسی کو فائدہ پہنچتا ہو تو اس کا نہ بیان کرنا گناہ ہو گا جس طرح غیبت کرنا گناہ ہے۔مثلاً اگر کسی کو معلوم ہو کہ فلاں شخص مفید اور فائدہ رساں چیز کو بگاڑنے کی کوشش کر رہا ہے یا گورنمنٹ کے خلاف کوئی کارروائی کر رہا ہے یا جماعت کے خلاف کسی شرارت سے کام لے رہا ہے یا کسی خاندان کو تباہ کرنے میں لگا ہوا ہے یا کسی فرد واحد کو نقصان پہنچانے لگا ہے تو اس کا چھپانا گناہ ہو گا اور اس کا ظاہر کرنا غیبت نہیں کہلائے گا بلکہ یہ جائز اور ضروری ہو گا۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جماعت کے خلاف سازش کرتے ، بد گوئیاں کر کے جماعت کے انتظام کو بگاڑتے ، خرابیاں بیان کر کے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا کرتے ہیں۔ان کی باتیں سُننے والا اگر خاموش رہے اور یہ سمجھے کہ میں نے ثواب کا