صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 469 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 469

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۹ ۷۸ - كتاب الأدب اور عیب بیان کرے تو یہ ناجائز ہے۔(۴) یہ کہ ایسا عیب جس سے دوسروں کو نقصان پہنچتا ہو اس کا بیان کرنا بھی ضروری ہو گا لیکن یہ یادرکھنا چاہیئے کہ جب اس کی اپنی ذات کے متعلق ہو تو جائز ہو گا اور اُسے حق ہو گا کہ بیان کرے یا نہ کرے کیونکہ اپنی ذات کے متعلق عفو اور درگزر کرنے کا وہ حق رکھتا ہے لیکن دوسروں کے متعلق یہ حق نہیں رکھتا۔اس لئے دوسروں کو اگر نقصان پہنچتا ہو تو اس کا بیان کرنا اس کے لئے ضروری ہے۔ان چار اُصول کے ماتحت عیب بیان کرنا جائز ہو گا۔انہی کے ماتحت یہ بھی جائز ہو گا کہ مثلاً کسی نے مشورہ کرنا ہے، ایک جگہ شادی کرنا چاہتا ہے اور پوچھتا ہے کہ فلاں لڑکی میں کوئی عیب ہو تو بتاؤ۔اس کے جواب میں اگر کوئی عیب بیان کرتا ہے تو یہ بھی جائزہ ہو گا۔اسی طرح سب باتیں ان چار قسموں میں داخل ہیں۔مذہب،سیاست، حکومت کے خلاف کوئی بات ہو یا ایسی بات ہو کہ اس کی ذات کو اس سے نقصان پہنچتا ہو جیسا کہ زہر کی مثال سے میں نے سمجھایا ہے۔ایسا ہی اعتقادات میں خرابی ہو۔اگر اس کے متعلق نہ بتایا جائے گا تو اسے نقصان پہنچے گا۔غرض جتنے عیوب بیان کرنے جائز ہیں وہ سب ان چاروں قسموں کے اندر آجائیں گے۔لوگوں نے ان کی بہت سی قسمیں مقرر کی ہیں مگر اصل میں یہ چار ہی ہیں۔ان کے اندر سارے آجاتے ہیں۔ان سب کی ایک قسم یہ ہے کہ وہ عیب بیان کرنے جائز ہیں جن سے کسی نہ کسی کو نقصان پہنچتا ہو۔یہ بڑی قسم ہے ، اس کے نیچے چاروں قسمیں آجائیں گی۔پھر یاد رکھو وہی عیب بیان کرنا چاہیے جو حقیقی طور پر ہو اور جس کا تدارک کیا جا سکتا ہو۔اگر ایسا نہیں تو پھر اس کا بیان کرنا نا جائز ہے یا بعض ایسے ہوتے ہیں کہ ان کے بیان کرنے سے فائدہ ہوتا ہے اور نہ بیان کرنے سے نقصان یا بعض ایسے کہ جن کے بیان کرنے سے فائدہ ہوتا ہے اور نہ بیان کرنے سے نقصان نہیں ہوتا۔حاکموں اور ذمہ وار لوگوں کے پاس عیب بیان کرنے پر قرآن نے اور رسولِ کریم