صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 466
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۶ ۷۸ - كتاب الأدب ہوئی معلوم ہوتی ہے مگر جب اُن سے جُدا ہو تا ہوں تو وہ حالت نہیں رہتی۔ابو بکر نے فرمایا کہ یہ حالت تو میری بھی ہے۔پھر دو نو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کل ماجر ابیان کیا۔آپ نے فرمایا کہ تم منافق نہیں ہو۔انسان کے دل میں قبض اور بسط ہوا کرتی ہے۔جو حالت تمہاری میرے پاس ہوتی ہے اگر وہ ہمیشہ رہے تو فرشتے تم سے مصافحہ کریں۔تو اب دیکھو کہ صحابہ کرام اس نفاق اور دورنگی سے کس قدر ڈرتے تھے۔جب انسان مجرآت اور دلیری سے زبان کھولتا ہے تو وہ بھی منافق ہوتا ہے، دین کی ہتک ہوتی سنے اور وہاں کی مجلس نہ چھوڑے یا ان کو جواب نہ دے تب بھی منافق ہوتا ہے ، اگر مومن کی سی غیرت اور استقامت نہ ہو تب بھی منافق ہوتا ہے۔جب تک انسان ہر حال میں خدا کو یاد نہ کرے تب نفاق سے خالی نہ ہوگا اور یہ حالت تم کو بذریعہ دعا حاصل ہوگی۔ہمیشہ دعا کرو کہ خدا تعالٰی اس سے بچاوے۔جو انسان داخل سلسلہ ہو کر پھر بھی دور نگی اختیار کرتا ہے تو وہ اس سلسلہ سے دور رہتا ہے، اس لیے خدا تعالیٰ نے منافقوں کی جگہ اسفل سافلین رکھی ہے کیونکہ ان میں دور لگی ہوتی ہے اور کافروں میں یک رنگی ہوتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد ۳ صفحه ۴۵۶،۴۵۵) بَاب ٥٣ : مَنْ أَخْبَرَ صَاحِبَهُ بِمَا يُقَالُ فِيهِ جس نے اپنے ساتھی کو ایسی بات بتائی جو اس کے متعلق کہی جاتی ہو ٦٠٥٩: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۶۰۵۹: محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي کیا کہ سفیان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش سے ، اعمش نے ابو وائل سے ، ابو وائل نے وَائِلِ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔قَالَ قَسَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ وَسَلَّمَ قِسْمَةً فَقَالَ رَجُلٌ مِّنَ مال بانٹا تو انصار میں سے ایک شخص کہنے لگا: اللہ الْأَنْصَارِ وَاللَّهِ مَا أَرَادَ مُحَمَّدٌ بِهَذَا کی قسم محمد (صلی ال) نے اس تقسیم سے اللہ کی وَجْهَ اللَّهِ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ رضا مندی نہیں چاہی۔( یہ سن کر) میں رسول اللہ