صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 465
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۵ ۷۸ - كتاب الأدب جس کے دو چہرے ہوں۔ سوسائٹی میں یہاں بیٹھتا ہے تو اور چہرہ بنا لیتا ہے اور وہاں بیٹھتا ہے تو اور چہرہ بنا لیتا ہے۔ لے کسی ایک جگہ جاتا ہے تو اُس کے دشمنوں کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے۔ دوسروں کے پاس جاتا ہے تو اُس سے پہلے کے خلاف باتیں شروع کر دیتا ہے، تو ایسے شخص ہیں جو سوسائٹی میں نفرتیں ہوتے اور بہت سی برائیوں کو پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ تو وہ شخص بڑا جھوٹا، منافق اور چغل خور ہے۔ پس یہ تین بیماریاں اس عادت سے نکلتی ہیں۔“ (خطبات طاہر ، خطبه جمعه فرموده ۱۴ اگست ۱۹۹۲، جلد ۱ ۱ صفحه ۵۶۹) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں: صرف زبان سے اسلام اسلام کہنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ سچے دل سے انسان اس پر کار بند نہ ہو جاوے۔ اکثر لوگ اس قسم کے بھی ہوتے ہیں جن کی نسبت قرآن شریف میں لکھا ہے : وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيْطِينِهِمْ قَالُوا۔ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ (البقرة: ۱۵) یعنی جب وہ مسلمانوں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور جب وہ دوسروں کے پاس جاتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں اور یہ وہ لوگ ہوتے جن کو قرآن شریف میں منافق کہا گیا ہے۔ اس لئے جب تک کوئی شخص پورے طور پر قرآن مجید پر عمل نہیں کر تا تب تک وہ پورا پورا اسلام میں بھی داخل نہیں ہوتا۔“ نیز فرمایا: ملفوظات جلد ۵ صفحه ۳۷۹،۳۷۸) یاد رکھو منافق وہی نہیں ہے جو ایفائے عہد نہیں کرتا یا زبان سے اخلاص ظاہر کرتا ہے مگر دل میں اس کے گھر ہے بلکہ وہ بھی منافق ہے جس کی فطرت میں دورنگی ہے اگرچہ وہ اس کے اختیار میں نہ ہو۔ صحابہ کرام کو اس دورنگی کا بہت خطرہ رہتا تھا۔ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ رورہے تھے تو حضرت ابو بکر نے پوچھا کہ کیوں روتے ہو؟ کہا کہ اس لیے روتا ہوں کہ مجھ میں نفاق کے آثار معلوم ہوتے ہیں۔ جب میں پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہوتا ہوں تو اُس وقت دل نرم اور اس کی حالت بدلی ا (مسلم، کتاب البر والصلة، حدیث نمبر ۴۷۱۴)