صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 464 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 464

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب مگر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ آخریج ہی کامیاب ہوتا ہے۔بھلائی اور فتح اسی کی تا ہے۔(احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۴۷۸) أَفْهَمَنِي رَجُلٌ إِسْنَادَه: یہ جملہ راویان حدیث کی اس حزم و احتیاط کا آئینہ دار ہے جو روایات کے بیان میں انہوں نے اختیار کی۔علامہ ابن حجر اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ احمد بن یونس نے جب یہ حدیث اپنے استاد ابن ابی ذئب سے سنی تو اُن کے الفاظ سے اس روایت کی سند اُن پر واضح نہیں ہوئی تھی۔اس پر ایک شخص جو مجلس میں اُن کے ساتھ ہی تھا، اُس نے انہیں یہ سند سمجھا دی۔بعد ازاں جب احمد بن یونس اس حدیث کو بیان کرنے لگے تو انہوں نے اصل واقعہ سے آگاہ کیا اور یہ جائز نہیں سمجھا کہ وہ اس بیان کے بغیر اس کی سند کو ابن ابی ذئب کی طرف منسوب کریں۔( فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۵۸۲،۵۸۱) بَاب ٥٢: مَا قِيلَ فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ دوڑنے کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے ٦٠٥٨: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ :۲۰۵۸ عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ حَدَّثَنَا میرے باپ نے ہمیں بتایا اعمش نے ہم سے بیان أَبُو صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ کیا۔ابو صالح نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حضرت قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔انہوں تَجِدُ مِنْ شَرَارِ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ نے ہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے عِنْدَ اللهِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي روز اللہ کے نزدیک لوگوں میں سے بدترین اُس کو پاؤ گے جو دو رُخا ہے۔جو ان کے پاس ایک منہ هَؤُلَاءِ بِوَجْهِ وَهَؤُلَاءِ بِوَجْهِ۔اطرافه: ٣٤٩ ، ٧١٧٩۔لے کر آتا ہے اور اُن کے پاس ایک منہ۔تشریح۔مَا قِيلَ فِي ذِي الْوَجْهَيْنِ: روزے کے متعلق جو کچھ کہا گیا ہے۔علامہ قرطبی بیان کرتے ہیں کہ ذو الو جہین شخص کا حال منافق کا حال ہی ہے کیونکہ وہ باطل اور جھوٹ کے ساتھ خوشامدی بنتے ہوئے لوگوں میں فساد ڈالنے والا ہے۔علامہ نووی کہتے ہیں کہ وہ ہر فریق کے پاس اس طرح آتا ہے کہ انہیں راضی کرلے اور اُن پر ایسا ظاہر کرتا ہے کہ وہ اُن میں سے ہے اور ان کے مخالفوں کے خلاف ہے۔اس کا یہ عمل نفاق اور خالصۂ جھوٹ اور دھو کہ رہی ہے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۵۸۳) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: " آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بد ترین آدمی تم اس کو پاؤ گے جو ذو الو جہین ہو،