صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 463 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 463

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۳ ۷۸ - كتاب الأدب فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ جو جھوٹ بولنا اور فریب کرنا اور جہالت نہ چھوڑے وَشَرَابَهُ۔ قَالَ أَحْمَدُ أَفْهَمَنِي رَجُلٌ تو اللہ کو اس کی ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا اور پینا چھوڑ دے۔ احمد (بن یونس) نے کہا کہ ایک شخص إِسْنَادَهُ۔ طرفه: ۱۹۰۳- نے مجھے اس حدیث کی سند یاد دلا دی۔ تشریح۔ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّور : یعنی جھوٹی بات سے بچتے رہو۔ زوڑ کے معنی میں مائل ہونا، جھکنا اور ایک طرف کو ہٹ جانا ہے۔ (اقرب الموارد - زور ) علامہ عینی نے لکھا ہے کہ جھوٹ کو زور اس لیے کہتے ہیں کہ وہ حق سے ہٹا ہوا ہوتا ہے۔ (عمدۃ القاری جزء ۲۲ صفحہ ۱۳۰) اسلام انسان کی جو تہذیب و تادیب کرنا چاہتا اہتا اہے ہے ؟ اس کا بڑا حصہ اسے جھوٹ اور میلان گناہ سے روکنا اور سداد اور رسچائی سچائی کے اس جادہ مستقیم پر قائم کرنا ہے جہاں اس کی اخلاقی حالت اسے نفس امارہ سے ترقی دیتے ہوئے نفس مطمئنہ تک لے جائے۔ ان اخلاق کی تعمیر میں روزہ کا ایک اہم کردار ہے۔ اگر روزہ سے یہ مقصد حاصل نہ ہو تو بھوکا پیاسا رہنا بے معنی ہے۔ عنوان باب اور زیر باب حدیث سے امام بخاری نے اسی ادب کی طرف راہنمائی کی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: فرمایا: قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ (الحج: ۳۱) یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔“ (نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۴۰۳) ” بت پرستی کے ساتھ اس جھوٹ کو ملایا ہے جیسا احمق انسان اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر پتھر کی طرف سر جھکاتا ہے ویسے ہی صدق اور راستی کو چھوڑ کر اپنے مطلب کے لیے جھوٹ کو بت بناتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو بت پرستی کے ساتھ ملایا اور اس سے نسبت دی جیسے ایک بت پرست بہت سے نجات چاہتا ہے۔ جھوٹ بولنے والا بھی اپنی طرف سے بت بناتا ہے اور سمجھتا ہے کہ اس بت کے ذریعہ نجات ہو جاوے گی۔ کیسی خرابی آکر پڑی ہے۔ اگر کہا جاوے کہ کیوں بت پرست ہوتے ہو ، اس نجاست کو چھوڑ دو تو کہتے ہیں کہ کیونکر چھوڑ دیں، اس کے بغیر گزارہ نہیں ہو سکتا۔ اس سے بڑھ کر اور کیا بد قسمتی ہو گی کہ جھوٹ پر اپنی زندگی کا مدار سمجھتے ہیں۔