صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 22
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۲ ۷۵ کتاب المرضى أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً کاش مجھے معلوم ہو کہ کیا میں وادی (مکہ) میں بِوَادٍ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ ایک رات بسر کروں گا جبکہ میرے آس پاس اذخر اور جلیل گھاس ہوں گے اور آیا میں کسی دن وَهَلْ أَرِدَنْ يَوْمًا مِيَاهَ مِجَنَّةٍ مجنہ کے پانی پر بھی پہنچوں گا اور آیا کبھی مجھے شامہ وَهَلْ تَبْدُوَنْ لِي شَامَةٌ وَطَفِيلُ اور طفیل پہاڑ دکھائی دیں گے۔قَالَتْ عَائِشَةُ فَجِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللهِ حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ کو ان کا یہ حال اللَّهُمَّ حَبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ كَحُبِّنَا بتایا۔آپ نے دعا کی: اے اللہ ! ہمیں مکہ کی محبت مَكَّةَ أَوْ أَشَدَّ اللَّهُمَّ وَصَحِحْهَا وَبَارِكْ کی طرح مدینہ کی محبت عطا کر یا اس سے بھی بڑھ لَنَا فِي مُدِّهَا وَصَاعِهَا وَانْقُلْ حُمَّاهَا کر۔اے اللہ ! اس کو صحت افزا بنا دے اور فَاجْعَلْهَا بِالْجُحْفَةِ۔أطرافه : ۱۸۸۹، ٣٩٢٦، ٥٦٧٧، ٦٣٧٢- تشریح: ہمارے لئے اس کے مد اور صاع میں برکت دے اور اس کے بخار کو یہاں سے لے جاکر جحفہ میں ڈال دے۔۔عِيَادَةُ النِّسَاءِ الرِّجَالَ: عورتوں کا مردوں کی بیمار پرسی کرنا۔بیماری ، وفات یا دیگر ایسے مواقع پر اسلام عورتوں کو مردوں کی اور مردوں کو عورتوں کی خدمت، تیمار داری اور مدد کرنے کی نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ بعض صورتوں میں اس کو لازمی قرار دیتا ہے۔اس لیے عورت ڈاکٹر مرد مریض کا اور مرد ڈاکٹر عورت مریضہ کا علاج معالجہ کر سکتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگوں میں شامل ہونے والی خواتین زخمیوں کا علاج معالجہ کرتیں، مقتولوں کو مدینہ لے کر آتیں اور ضرورت مندوں کی دیگر تمام ضروریات پوری کرتیں جس سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی جان کی خدمت اور حفاظت اسلام کے نزدیک نہایت اہم ہے اور اس میں مرد عورت کا فرق مانع نہیں ہو سکتا۔وَعَادَتْ أُم الشَّرْدَاءِ رَجُلًا : امام بخاری نے اپنی کتاب الادب المفرد میں اس واقعہ کو سند کے ساتھ درج کیا ہے۔حارث بن عبید بیان کرتے ہیں کہ میں نے اُتم درداء کو مسجد میں ایک انصاری شخص کی تیمارداری کرتے دیکھا ہے (الأدب المفرد للبخاری، باب عيادة النساء الرجل المريض، روایت نمبر ۵۳۰)