صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 462
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۲ ۷۸ - كتاب الأدب عذاب کے لئے انسان کو اب تیاری کرنی چاہیئے۔ یہ وہ برائیاں ہیں کہ جب یہ قومی حیثیت اختیار کر جاتی ہیں تو قرآن کریم یہ خبر دیتا ہے کہ اس کے بعد ایسی قوموں کے لئے ایک بہت ہی درد ناک عذاب مقدر ہے اور اس عذاب کا نقشہ اگلی آیات میں کھینچا گیا ہے۔“ (خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۳، فروری ۱۹۸۴، جلد ۳ صفحه ۶۷،۶۶) لا يَدْخُلُ الجَنَّة قنات : حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: بعض لوگ اس لئے تجس کر رہے ہوتے ہیں۔ مثلاً عمومی زندگی میں لیتے ہیں، دفتروں میں کام کرنے والے، ساتھ کام کرنے والے اپنے ساتھی کے بارہ میں، یا دوسری کام کی جگہ ، کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے، اپنے ساتھیوں کے بارہ میں کہ اس کی کوئی کمزوری نظر آئے اور اس کمزوری کو پکڑیں اور افسروں تک پہنچائیں تا کہ ہم خود افسروں کی نظر میں ان کے خاص آدمی ٹھہریں، ان کے منظور نظر ہو جائیں۔ یا بعضوں کو یونہی بلاوجہ عادت ہوتی ہے کسی سے بلاوجہ کا بیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کی برائیاں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں۔ تو یاد رکھنا چاہئیے کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں آنحضرت صلی اللہ ہم نے فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کا کبھی بھی جنت میں دخل نہیں ہو گا، ایسے لوگ کبھی بھی جنت میں نہیں جائیں گے۔ تو کون عقلمند آدمی ہے جو ایک عارضی مزے کے لئے ، دنیاوی چیز کے لئے ، ذراسی باتوں کا مزا لینے کے لئے اپنی جنت کو ضائع کرتا پھرے۔ (خطبات مسرور، خطبہ جمعہ فرموده ۲۶، دسمبر ۲۰۰۳، جلد اول صفحه ۵۷۹، ۵۷۰) بَاب ٥١ : قَوْلُ اللَّهِ تَعَالَى وَاجْتَنِبُوا قَولَ النُّورِ (الحج: ۳۱) اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: یعنی جھوٹی بات سے بچتے رہو ٦٠٥٧ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۶۰۵۷: احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا کہ ( محمد ) حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِنْبِ عَنِ الْمَقْبُرِيِّ ابن ابی ذئب نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے (سعید) عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ مقبری سے ، سعید نے اپنے باپ سے، ان کے باپ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ لَّمْ نے حضرت ابوہریرہ سے، حضرت ابوہریرہ نے يَدَعْ قَوْلَ النُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ وَالْجَهْلَ في صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی۔ آپؐ نے فرمایا: