صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 461
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۶۱ ۷۸ - كتاب الأدب بھی ہے۔ ان دونوں میں سب سے پہلے غیبت کا معنی پایا جاتا ہے۔ ھمزہ بھی غیبت کرنے والے کو کہتے ہیں اور لمزة بھی بہت غیبت کرنے والے کو کہتے ہیں۔ ان دونوں میں عیب چینی کا مادہ پایا جاتا ہے۔ ھمزہ بھی عیب چین کو کہتے ہیں جو بکثرت لوگوں میں عیب نکالے اور پھر ان عیبوں کی تشہیر کرے اور لمزہ بھی یہی معنی رکھتا ہے۔ ھمزۃ میں ایک معنی ہیں فحشاء کو پھیلانا یعنی کسی کے متعلق بڑی باتیں سننا اور پھر اس کو آگے خوب تشہیر دینا اور لمزۃ میں بھی یہ معنی پائے جاتے ہیں ایک باریک فرق یہ ہے کہ بعض اہل لغت کے نزدیک ھمزۃ پیٹھ پیچھے برائی کے لئے زیادہ استعمال ہوتا ہے اور لمزۃ منہ کے سامنے بُرائی کے لئے لیکن بعض اہل لغت اس میں بھی دونوں کو مشترک ہی قرار دیتے ہیں بلکہ ان معنوں کو الٹا کر معاملے کو مشکوک کر دیتے ہیں وہ کہتے ہیں: لمزة پیٹھ پیچھے برائی کے لئے ہے اور همزة سامنے برائی کے لئے ہے۔ بہر حال اس پر اتفاق ہے کہ یہ دونوں معانی ان دونوں لفظوں میں موجود ہیں۔ جو باریک فرق ہے وہ یہ ہے کہ کمرہ میں ایک زائد معنی اشارے اور مخفی پروپیگنڈہ کا ہے یعنی آنکھ کے اشارہ سے کسی دوسرے کی تضحیک کرنا یا اس کی کسی برائی کی طرف کرنایا طور پر یعنی پایا جاتا ہے اور اشارہ کرنا یا تذلیل کرنا وہ لمزۃ میں خاص طور پر یہ معنی پایا جاتا ہے اور اس کے علاوہ مخفی پرو پیگنڈہ بھی لمزة میں آتا ہے یعنی کھلم کھلا عیب چینی کے علاوہ اگر مخفی پرو پیگنڈہ کیا جائے تو وہ بھی لمزة کے تابع ہے پھر ھمزۃ میں ایک معنی بشدت توڑنے کا پایا جاتا ہے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، کسی کو دھکا دے کر زمین پر پھینک دینا اور مضبوط تعلقات کے لئے بھی ان معنوں کو استعمال کیا جا سکتا ہے کہ اگر کوئی توڑ دے اور قوموں کو متفرق کر دے یا گروہوں کو متفرق کر دے اس کے لئے بھی لفظ همزة یا معنوی طور پر استعمال ہو سکتا ہے ۔ ذلیل اور رسوا کر دینا، بے طاقت کر دینا ، بے حیثیت کر دینا، ٹکڑے ٹکڑے کر دینا، مخالفت کرنا، مخفی پروپیگنڈہ کرنا، ظاہری پروپیگنڈہ کرنا، فحشاء کو اور بُری باتوں کو پھیلانا، سچے اور جھوٹے دونوں قسم کے الزام اور دونوں قسم کی فحشاء ھمزۃ اور لمزۃ میں داخل ہیں۔ همزة یہ وہ برائیاں ہیں جب یہ اکٹھی ہو جاتی ہیں تو اس وقت ایک بہت ہی خوفناک