صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 459 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 459

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۹ ۷۸ - كتاب الأدب لوگ ستاری نہیں کرتے وہ خدا تعالیٰ کی صفت ستاری کے حقدار نہیں رہتے ، اس کی رحمت اور اس کی تجلی کے حقدار نہیں رہتے۔تو ساری دنیا میں دو طرح سے ان دو گندی صفات نے مصیبت ڈالی ہوئی ہے، آفت ڈھائی ہوئی ہے دنیا کے ساتھ۔ایک براہ راست یہ بیماریاں معاشرہ کو قسم قسم کے دکھوں میں مبتلا کر رہی ہیں اور ایک اللہ تعالیٰ کی رحمت سے یہ معاشرہ خالی ہو جاتا ہے اس کے عفو اور اس کی ستاری سے یہ معاشرہ خالی ہو جاتا ہے اور انسان کی غلطیوں کے نتیجہ میں جو خدارحمت کا سلوک فرماتا ہے اور اس کی تقدیر خاص اس کو مصائب سے بچاتی ہے، وہ تقدیر خاص عمل کرنا چھوڑ دیتی ہے۔غیبت سچی بات کو کہتے ہیں لیکن وہ سچی بات جو دکھ دینے والی ہو۔اس ضمن میں بسا اوقات آپس کی بحث کے دوران آپ یہ فقرہ بھی سنیں گے دولڑنے والوں کے درمیان کہ میں جھوٹ بولوں! میں نے جو سچی بات ہے وہ منہ پر کہہ دی ہے، میری عادت ہے میں بڑا صاف گو ہوں اور سچی بات منہ پہ مارتا ہوں۔ایسے ”صاف گو “ پر خدا تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت ڈالی ہوئی ہے اور فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ کا عذاب اس کو پکڑلے گا اور بڑی سخت تحذیر فرمائی ہے، بڑی سخت اس کے متعلق انذار کی پیشگوئی کی ہے اور نقشہ کھینچا ہے کہ ایسے ”صاف گو لوگوں سے قیامت کے دن کیا سلوک ہو گا۔تو سچ کا یہ مطلب یہ تصور بالکل جھوٹا اور باطل اور جاہلانہ تصور ہے کہ جو بات دکھ پہنچانے والی ہو وہ کسی کے منہ پر ماری جائے۔ایسے صاف گو لوگ خدا کو بالکل پسند نہیں ہیں۔“ ( خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرمودہ ۲۷، جنوری ۱۹۸۴ء، جلد ۳ صفحه ۵۲ تا۵۴) باب ٥٠ : مَا يُكْرَهُ مِنَ النَّمِيمَةِ چغل خوری جو مکروہ ہے وَقَوْلُهُ: هَمَّازٍ مَشَاءٍ بِنَمِيم اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: طعن تشنیع کرنے والا، (القلم : ١٢) وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ چغل خور۔ہلاکت ہو ہر ایک طعن و تشنیع کرنے ( الهمزة: ٢) يَهْمِرُ وَيَلْمِرُ وَيَعِيبُ وَاحِدٌ والے، عیب جو کے لئے۔يَفْسِرُ وَيَلْمِزُ وَيَعِيبُ کے معنی ہیں عیب بیان کرتا ہے۔