صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 458
۴۵۸ صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۸ - كتاب الأدب کو علم یا عدم علم کی بناء پر اس کی مرضی کے بغیر ، فساد پھیلانے کی غرض سے دوسرے سے بیان کرنا ہے۔اور غیبت کسی کی ایسی بات جسے وہ ناپسند کرے، اُس کی عدم موجودگی میں ذکر کرنا ہے۔گویا تميمة ( یعنی چغل خوری) فساد پھیلانے کے مقصد کی وجہ سے امتیاز رکھتی ہے اور غیبت میں یہ شرط نہیں ہے۔غیبت کا امتیاز یہی ہے کہ جس کے بارے میں بات ہو وہ موجود نہ ہو۔(فتح الباری جزء ۰ اصفحہ ۵۸۱) حضرت خلیفہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: غیبت کے نتیجے میں ایک اور بُرائی پیدا ہوتی ہے وہ دُکھ پہنچانے کا مفہوم اپنے اندر رکھتی ہے یعنی چغل خوری ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ غیبت تو منع ہے ہی لیکن اگر کوئی کسی کو غیبت کرتے ہوئے سنے اور وہ اس بات کو اس شخص تک پہنچا دے جس سے متعلق کہی گئی تھی تو اس چغل خور کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی کسی کی طرف تیر پھینکے اور تیر نشانے پر نہ لگے اور وہ اس کے قدموں میں جاگرے اور کوئی شخص اس کے قدموں سے تیر اُٹھا کر اس کے سینے میں گھونپ دے کہ میں نے اس کا مقصد پورا کر دیا ہے۔تو چونکہ دل آزاری منع ہے، بنیادی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ دل آزاری منع ہے، کسی کو دکھ دینا منع ہے، کسی کے گناہوں پر نظر رکھنا منع ہے، گناہوں سے حیا کرنے کی تعلیم دی گئی ہے اس لئے وہ تعلیم سب جگہ جاری و ساری نظر آتی ہے ، ہر جگہ وہ اثر پذیر نظر آتی ہے اور جہاں جہاں اس کا فقدان ہوتا ہے اس کے نتیجہ میں بدیاں پھوٹتی ہیں اور بدیوں میں بھی اسی طرح شاخیں در شاخیں برائیاں آگے پھوٹتی چلی جاتی ہیں۔یہ اتنی اہم چیز ہے کہ اکثر دنیا کے فساد خصوصاً خاندانی فساد اسی کے نتیجہ میں پیدا ہو رہے ہیں۔اتنا دکھ پہنچایا ہے ہمارے معاشرے کو اس گندی عادت نے اور یہ گندی عادت ایسی گہری انسانی مزاج میں داخل ہو چکی ہے کہ صرف ہندوستان اور پاکستان کا سوال نہیں تمام دنیا میں یہ گندی عادت موجود ہے اور ہر جگہ معاشرہ کو اس نے تباہ کر رکھا ہے۔عالمی طور پر اللہ کی صفت عفو کو دھتکار دیا گیا ہے، اس سے غفلت کی گئی ہے، اس سے اجنبیت برتی جارہی ہے اور جب صفت عفو سے نفرت کی جائے گی اس کو دھتکارا جائے گا۔تو اللہ تعالیٰ کا عفو اسی حد تک بندوں سے کم ہو جائے گا کیونکہ جو لوگ عفو نہیں کرتے وہ عفو کے سلوک کے حقدار نہیں رہتے ، جو