صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 456 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 456

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۶ ۷۸ - كتاب الأدب گر بتایا ہے: غیبت کسی شخص کے ذکر شر کا نام ہے جس سے ا ہے جس سے افراد اور معاشرے میں فتنہ پیدا ہوتا ہو۔ مگر جو افراد فتنہ ہوں اور اہل فساد ہوں اُن کا ذکر شرغیبت نہیں بلکہ نھی عن المنکر کا ایک لطیف اظہار ہے۔ دشمن کی شر انگیزیوں سے باخبر رہنا اور اپنے قریبی اور قابل اعتماد افراد کو حزم اور احتیاط کے طور پر شریر کے شر، تخریب کار اور فسادی سے متنبہ کرنا غیبت نہیں بلکہ قیام امن کے لئے ضروری ہے۔ خفیہ ادارے اور ان ٹیلی جنس ایجنسیاں اسی دائرے میں رہ کر اپنے مفوضہ فرائض سر انجام دے سکتی ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: الله ایک موقع پر حضرت اقدس محمد مع محمد مصطفیٰ صلی اللہ سلم نے اپنی ا علی علیم نے اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے سامنے کسی شخص کی بات بیان کی اور ان کو یہ شک گزرا کہ نَعُوذُ بِالله مِن ذلك غیبت تو نہیں ہو رہی۔ وہ شخص موجود نہیں تھا۔ مگر وہ جن کو منصب عطا ہوتا ہے، بعض ذمہ دار ن ذمہ داریاں عطا ہوتی ہیں، بعض دفعہ وہ اپنے تبصرے کو بعض دوسر۔ لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور مقصد یہ نہیں ہوتا کہ نعوذ باللہ ان سننے والوں کے درمیان کوئی نفرت کی خلیج پیدا کریں یا دوریاں پیدا کریں بلکہ ایک قسم کی نصیحت ہوتی ہے۔ ایک مثال کو پیش کرتے ہوئے کہ دیکھو یہ ناپسندیدہ فعل تھا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے اور اس سے زیادہ چونکہ نیت میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا اس لئے اللہ کے حضور اسے ہر گز غیبت شمار نہیں کیا جائے گا۔ نہ کبھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے غیبت فرمائی۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: خطبات طاہر ، خطبہ جمعہ فرموده ۱۸، نومبر ۱۹۹۴ء، جلد ۱۳ صفحه ۸۶۹) یاد رکھنا چاہیے کہ ہر موقع پر کسی کا عیب بیان کر نا برا نہیں ہو تا بلکہ بعض جگہ ضروری ہوتا ہے اس وقت اس کو غیبت نہیں کہا جائے گا۔ غیبت ایک اصطلاح ہے اور یہ اسی وقت استعمال کی جائے گی جبکہ خوامخواہ کسی کے عیب بیان کئے جائیں لیکن اگر کوئی شخص کسی کا عیب بیان کرنے پر مجبور ہے یا آوروں کو اس کے بیان کرنے سے فائدہ پہنچتا ہے تو اس کا بیان کرنا نیکی اور ثواب کا کام ہو گا۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ء، جلد ۶ صفحه ۵۳۰)