صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 456
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۶ ۷۸ - كتاب الأدب بتایا ہے: غیبت کسی شخص کے ذکر شر کا نام ہے جس سے افراد اور معاشرے میں فتنہ پیدا ہوتا ہو۔مگر جو افراد فتنہ گر ہوں اور اہل فساد ہوں اُن کا ذکر شر غیبت نہیں بلکہ نہی عن المنکر کا ایک لطیف اظہار ہے۔دشمن کی شر انگیزیوں سے باخبر رہنا اور اپنے قریبی اور قابل اعتماد افراد کو حرم اور احتیاط کے طور پر شریر کے شر، تخریب کار اور فسادی سے متنبہ کرنا غیبت نہیں بلکہ قیام امن کے لئے ضروری ہے۔خفیہ ادارے اور ان ٹیلی جنس ایجنسیاں اسی دائرے میں رہ کر اپنے مفوضہ فرائض سر انجام دے سکتی ہیں۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک موقع پر حضرت اقدس محمد مصطفی صلی علی کریم نے اپنی ازواج مطہرات میں سے کسی کے سامنے کسی شخص کی بات بیان کی اور ان کو یہ شک گزرا کہ نَعُوذُ بِالله مِن ذلك غیبت تو نہیں ہو رہی۔وہ شخص موجود نہیں تھا۔مگر وہ جن کو منصب عطا ہوتا ہے، بعض ذمہ داریاں عطا ہوتی ہیں، بعض دفعہ وہ اپنے تبصرے کو بعض دوسرے لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں اور مقصد یہ نہیں ہوتا کہ نعوذ باللہ ان سننے والوں کے درمیان کوئی نفرت کی خلیج پیدا کریں یا دوریاں پیدا کریں بلکہ ایک قسم کی نصیحت ہوتی ہے۔ایک مثال کو پیش کرتے ہوئے کہ دیکھو یہ ناپسندیدہ فعل تھا تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیئے اور اس سے زیادہ چونکہ نیت میں کوئی رخنہ نہیں ہوتا اس لئے اللہ کے حضور اسے ہرگز غیبت شمار نہیں کیا جائے گا۔نہ کبھی حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ وسلم نے غیبت فرمائی۔“ خطبات طاہر، خطبه جمعه فرموده ۱۸ نومبر ۱۹۹۴ء، جلد ۱۳ صفحه ۸۶۹) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یاد رکھنا چاہیے کہ ہر موقع پر کسی کا عیب بیان کر نا بُرا نہیں ہوتابلکہ بعض جگہ ضروری ہوتا ہے اس وقت اس کو غیبت نہیں کہا جائے گا۔غیبت ایک اصطلاح ہے اور یہ اسی وقت استعمال کی جائے گی جبکہ خوامخواہ کسی کے عیب بیان کئے جائیں لیکن اگر کوئی شخص کسی کا عیب بیان کرنے پر مجبور ہے یا اوروں کو اس کے بیان کرنے سے فائدہ پہنچتا ہے تو اس کا بیان کرنا نیکی اور ثواب کا کام ہو گا۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۹، اکتوبر ۱۹۲۰ء، جلد ۶ صفحه ۵۳۰)