صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 455 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 455

صحیح البخاری جلد ۱۴ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ۴۵۵ ۷۸ - كتاب الأدب ہر ایک بات پیٹھ پیچھے کرنا غیبت نہیں۔ مثلاً اگر کوئی کہے فلاں آدمی بڑا نیک ہے تو یہ غیبت نہیں ہو گی اور نہ ہی غیبت یہ ہے کہ کسی کے متعلق پیٹھ پیچھے جھوٹی بات کہے، یہ تو افتراء ہے۔ غیبت کے یہ معنی ہیں کہ کسی کے پیچھے وہ بات بیان کرنا کہ جسے اگر وہ سنے تو اُسے بُری لگے اور تم سمجھتے ہو کہ اس میں پائی جاتی ہے خواہ فی الواقع اس میں ہو یا نہ ہو۔“ (خطبات محمود، خطبه جمعه فرموده ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۰ء، جلد ۶ صفحه ۵۲۹) بَاب ٤٨ : مَا يَجُوزُ مِنِ اغْتِيَابِ أَهْلِ الْفَسَادِ وَالرِّيَبِ فسادیوں اور مشتبہ لوگوں کی غیبت کرنا جو جائز ہے ٦٠٥٤ : حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۶۰۵۴ : صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ ابن أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ سَمِعْتُ ابْنَ عیینہ نے ہمیں خبر دی۔ میں نے ابن منکدر سے الْمُنْكَدِرِ سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ سنا۔ (ابن منکدر نے کہا: میں نے عروہ بن زبیر أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ سے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں قَالَتْ اسْتَأْذَنَ رَجُلٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ خبر دی۔ وہ کہتی تھیں: ایک شخص نے رسول اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ الْذَنُوا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کی اجازت مانگی۔ لَهُ بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ أَوِ ابْنُ آ نے فرمایا: اسے اجازت دو۔ بُرے خاندان الْعَشِيرَةِ فَلَمَّا دَخَلَ أَلَانَ لَهُ الْكَلَامَ کا بھائی ہے یا فرمایا: برے خاندان کا بیٹا ہے۔ جب وہ اندر آیا تو آپ نے اس سے نرمی سے گفتگو کی۔ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قُلْتَ الَّذِي میں نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ نے ایسا فرمایا تھا۔ قُلْتَ ثُمَّ أَلَنْتَ لَهُ الْكَلَامَ قَالَ أَيْ پھر آپ نے اُس سے نرمی سے گفتگو کی ؟ آپؐ نے عَائِشَةُ إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ فرمایا: عائشہ ابد ترین لوگ وہ ہیں جن کو لوگ ان النَّاسُ أَوْ وَدَعَهُ النَّاسُ اتَّقَاءَ فُحْشِهِ۔ کی بدخلقی سے بچنے کی وجہ - وجہ سے ترک کر دیں یا اطرافه: ٦٠٣٢، ٦١٣١۔ (فرمایا:) چھوڑ دیں۔ تشريح : مَا يَجُوزُ مِنِ اغْتِيَابِ أَهْلِ الْفَسَادِ وَالرِّيبِ: فسادیوں اور مشتبہ لوگوں کی غیبت کرنا جو جائز ہے۔ امام بخاری نے تصریف روایات سے غیبت اور عدم غیبت کا فرق نمایاں کیا ہے اور یہ