صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 454 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 454

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۴ ۷۸ - كتاب الأدب کو بطور سفارش کے کھڑا کر دیا۔عالم روحانی کے یہ راز ہر کوئی نہیں سمجھ سکتا اس لئے آپ نے لوگوں کو مختصر جواب دیا اور ایک دوسرے موقع پر آپ نے اس قانون ربانی کی تشریح بھی کر دی۔فرمایا: كَمَا تَنْبُتُ الْحَبَّةُ فِي جَانِبِ السَّيْلِ یعنی عالم آخرت میں اسی طرح نشو و نما پائے گا جس طرح سیلاب کے کچرے میں دانہ نشود نما پاتا ہے۔وہاں بھی روح کی کثافتیں اسی طرح لطافتوں میں تبدیل ہوں گی جیسے یہاں ترابی مواد لطیف زندگی میں تبدیل ہوتے ہیں۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح كتاب الوضوء، باب من الكبائر ان لا يستتر من بوله، جزء اول صفحه ۳۰۱) بَاب ٤٧ : قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: انصار کے بہتر گھرانے ٦٠٥٣: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ حَدَّثَنَا ۶۰۵۳: قبیصہ (بن عقبہ) نے ہم سے بیان کیا کہ سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ سفيان (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابوالزناد عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِي قَالَ قَالَ سے ابوالزناد نے ابوسلمہ سے، ابوسلمہ نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ ابو اسید ساعدی سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے بہتر دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ۔أطرافه: ۳۷۸۹، ۳۷۹۰، ۳۸۰۷- گھرانے بنو نجار ہیں۔شريح۔قَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانا: انصار کے بہتر گھرانے۔امام ابن حجر نے اس باب کے یہاں آنے پر اشکال کا اظہار کیا ہے کہ بظاہر تو اس باب کا تعلق غیبت کے مضمون سے دکھائی نہیں دیتا۔ان کے نزدیک غیبت کے ضمن میں اس کے آنے کی وجہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ غیبت کی تعریف "ذكرك أخاك بما يكره ہے۔یعنی تیرا اپنے بھائی کا ایسا ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرے۔مراد یہ ہے کہ جن پر فضیلت دی جارہی ہے ممکن ہے کہ وہ نا پسند کریں اور بر امنائیں۔حدیث زیر باب سے ظاہر ہے کہ فضیلت کا اس طرح اظہار جائز ہے اور یہ بات غیبت میں داخل نہیں۔ابن التین نے بھی اسی رائے کا اظہار کیا ہے۔(فتح الباری جزء ۱۰ صفحہ ۵۷۸) (مسلم، کتاب البر والصلة، باب تحريم الغيبة)