صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 453 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 453

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۳ ۷۸ - كتاب الأدب لَعَلَّهُ يُخفَّفُ عَنْهُمَا مَالَمْ يَيْبَسا : شاید جب تک یہ خشک نہ ہو ان سے سزا ہلکی کی جائے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ” آپ نے سبز ٹہنی جو دو ٹکڑے کر کے قبروں پر گاڑی ہے اور اس امید کا اظہار فرمایا ہے کہ ممکن ہے جب تک یہ خشک نہ ہوں سزا ان سے ملکی کر دی جائے۔یہ آپ نے گناہ اور سزا کی اہمیت آشکار کرنے کے لئے کیا۔ان کی سزا کی کیفیت دیکھ کر آپ کا دل رقت سے بھر اہوا تھا اور رحمت جو آپ کی فطرت کا خمیر تھا، جوش میں تھی۔آپ نے اُن کے لئے دعا کی اور گو ظاہری الفاظ میں دعانہ بھی کی ہو۔مگر اہل اللہ کی یہ قلبی رقت بذات خود ایک دعا ہے اور ان شاخوں کا گاڑنا بھی بتلاتا ہے کہ آپ نے ان دونوں سے عذاب ہلکا ہو جانے کی عملاً خواہش ظاہر فرمائی ہے اور اُمید کا اظہار کیا کہ ممکن ہے ان سے سزا ہلکی کی جائے اور یہ اس لئے کہ وہ نظارہ آپ کے دل میں کامل تواضع و خشیت کے جذبات پیدا کرنے والا تھا جس کا طبعی نتیجہ یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے جلال و استغناء کی صفات کا نقشہ واضح طور پر آپ کی آنکھوں کے سامنے کھنچ جاتا۔اور ان معنوی کیفیات کی وجہ سے آپ نے فرمایا: لَعَلَّهُ أَن تُخفَّفَ عَنْهُمَا مَالَمْ تَيْبَسَا - انبیاء با وجود اس کے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان کا تعلق عاشق کا سا ہوتا ہے اور وہ اس سے کبھی اپنی بھی منواتے ہیں مگر وہ اس کے جلال و استغناء سے غافل نہیں ہوتے خصوصاً جب وہ روحانی آنکھ سے ایسا ہیبت ناک نظارہ دیکھ رہے ہوں۔ایک طرف تو آپ نے یہ راز کھولا اور دوسری طرف عالم آخرت کا یہ راز افشاء کیا کہ نباتات جس طرح ایک کثیف بے حرکت جسم کو اپنے اندر جذب کر کے ایک لطیف متحرک زندگی میں اسے تبدیل کرتے ہیں اور غیر عضوی زندگی کو عضوی زندگی میں نمایاں کرتے ہیں، اسی طرح انسان جو اپنی بد عملی سے ایک کثیف جسم اپنے ساتھ لے جاتا ہے اس کا استحالہ کثافت سے لطافت میں اسی قسم کے قانون ربانی کے ماتحت ہے جو قانون اس دنیا کے عالم جمادات و نباتات میں کام کر رہا ہے۔اور آپ کا سبز شاخوں کو گاڑنا اس راز کے بتانے کے لئے ایک ظاہری علامت تھی اور آپ نے اللہ تعالیٰ کے سامنے خود اس کے ایک فعل