صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 21 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 21

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۲۱ ۷۵ کتاب المرضى انسان اپنے علاج سے غفلت کا مرتکب ہو سکتا ہے۔اپنی بری حالت پر راضی ہو سکتا ہے۔یہ رویہ بھی ایک قسم کی انتہا پسندی کے مترادف ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔بَابِ: عِيَادَةُ النِّسَاءِ الرِّجَالَ عورتوں کا مردوں کی بیمار پرسی کرنا وَعَادَتْ أُمُّ الدَّرْدَاءِ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ اور حضرت اُم در داء نے ایک شخص کی بیمار پرسی کی جو اُن انصار میں سے تھا جو مسجد میں رہتے تھے الْمَسْجِدِ مِنَ الْأَنْصَارِ۔٥٦٥٤ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ عَنْ مَالِكِ ۵۶۵۴ قتیبہ بن سعید) نے ہمیں بتایا۔انہوں عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ نے مالک سے ، مالک نے ہشام بن عروہ سے ، ہشام عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ نے اپنے باپ سے، ان کے باپ نے حضرت اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ عائشہؓ سے روایت کی۔آپ بیان کرتی ہیں: جب وُعِكَ أَبُو بَكْرٍ وَبِلَالٌ رَضِيَ اللهُ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں آئے تو حضرت عَنْهُمَا قَالَتْ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِمَا قُلْتُ ابوبکر اور حضرت بلال رضی اللہ عنہما کو بخار ہو گیا۔يَا أَبَتِ كَيْفَ تَجِدُكَ وَيَا بِلَالُ كَيْفَ آپ بیان کرتی ہیں۔میں ان کے پاس گئی۔میں تَجِدُكَ قَالَتْ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ إِذَا نے کہا: ابا اب آپ اپنے آپ کو کیسا پاتے ہیں ؟ أَخَذَتْهُ الْحُمَّى يَقُولُ: اور بلال تم اپنے تئیں کیسا پاتے ہو ؟ کہتی تھیں اور حضرت ابو بکر کی یہ عادت تھی کہ جب ان کو بخار ہوتا تو وہ یہ شعر پڑھتے : كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحَ فِي أَهْلِهِ ہر آدمی کو جب وہ اپنے گھر والوں میں صبح اٹھتا ہے وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ تو اس کو سلامتی کی دعا دی جاتی ہے) حالانکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے قریب ہوتی ہے۔وَكَانَ بِلَالٌ إِذَا أَقْلَعَتْ عَنْهُ يَقُولُ اور بلال کی عادت تھی کہ جب اُن کا بخار اتر جاتا تو وہ یہ شعر پڑھتے: