صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 452
صحیح البخاری جلد ۱۴ آپ فرماتے ہیں: ۴۵۲ ۷۸ - كتاب الأدب چاہیے کہ جسے کمزور پاوے اسے خفیہ نصیحت کرے، اگر نہ مانے تو اس کے لیے دعا کرے اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضا و قدر کا معاملہ سمجھے۔جب خدا تعالیٰ نے ان کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہیے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے۔قطب اور ابدال سے بھی بعض وقت کوئی عیب سر زد ہو جاتا ہے ، بلکہ لکھا ہے القطب قدیزنی کہ قطب سے بھی زنا ہو جاتا ہے۔بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لیے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہیے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہیئے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھر و بلکہ وہ فرماتا ہے: تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد: ۱۸) کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ دوسرے کے عیب دیکھ کر اسے نصیحت کی جاوے اور اس کے لیے دعا بھی کی جاوے۔دعا میں بڑی تاثیر ہے اور وہ شخص بہت ہی قابلِ افسوس ہے کہ ایک کے عیب کو بیان تو سو مرتبہ کرتا ہے لیکن دعا ایک مرتبہ بھی نہیں کرتا۔عیب کسی کا اس وقت بیان کرنا چاہیئے۔جب پہلے کم از کم چالیس دن اس کے لیے رو رو کر دعا کی ہو۔۔۔۔۔ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ عیب کے حامی بنو بلکہ یہ کہ اشاعت اور غیبت نہ کرو، کیونکہ کتاب اللہ میں جیسا آگیا ہے تو یہ گناہ ہے کہ اس کی اشاعت اور غیبت کی جاوے۔شیخ سعدی کے دوشاگرد تھے۔ایک ان میں سے حقائق و معارف بیان کیا کرتا تھا دوسرا جلا بھنا کرتا تھا۔آخر پہلے نے سعدی سے بیان کیا کہ جب میں کچھ بیان کرتا ہوں تو دوسر ا جلتا ہے اور حسد کرتا ہے۔شیخ نے جواب دیا کہ ایک نے راہ دوزخ کی اختیار کی کہ حسد کیا اور تو نے غیبت کی۔“( ملفوظات جلد ۴ صفحہ ۶۱،۶۰)