صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 451
صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۱ ۷۸ - كتاب الأدب رائے میں حق بجانب بھی سمجھتا ہے لیکن در حقیقت اس کی رائے صحیح نہیں ہوتی۔ہم نے بیسیوں دفعہ دیکھا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے متعلق ایک قطعی رائے قائم کر لیتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ میری رائے درست ہے لیکن ہوتی غلط ہے۔ایسی صورت میں اگر دوسرا شخص سامنے بیٹھا ہو گا اور اس کے متعلق کسی رائے کا اظہار کیا جائے گا تو از ماوہ اپنی برات کرے گا اور کہے گا کہ تمہیں میرے متعلق غلط فہمی ہوئی ہے میرے اندر یہ نقص نہیں پایا جاتا۔پس خواہ کسی کے نزدیک کوئی بات سچی ہو جب وہ دوسرے شخص کی عدم موجودگی میں بیان کرتا ہے اور وہ بات ایسی ہے جس سے اس کے بھائی کی عزت کی تنقیص ہوتی ہے یا اسکے علم کی تنقیص ہوتی ہے یا اسکے رتبہ کی تنقیص ہوتی ہے تو قرآن کریم اور احادیث کی رو سے وہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کیونکہ اس طرح اس نے اپنے بھائی کو اپنی برات پیش کرنے کے حق سے محروم کر دیا ہے۔“ ( تفسير كبير، سورة الهمزة ، زير آيت وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ تُمَزَةٍ ، جلد 9 صفحه ۵۷۹) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: بعض گناہ موٹے موٹے ہوتے ہیں مثلاً جھوٹ بولنا، زنا کرنا، خیانت، جھوٹی گواہی دینا اور اتلاف حقوق، شرک کرنا وغیرہ۔لیکن بعض گناہ ایسے باریک ہوتے ہیں کہ انسان اُن میں مبتلا ہوتا ہے اور سمجھتا ہی نہیں۔جو ان سے بوڑھا ہو جاتا ہے مگر اسے پتہ نہیں لگتا کہ گناہ کرتا ہے مثلا گلہ کرنے کی عادت ہوتی ہے۔ایسے لوگ اس کو بالکل ایک معمولی اور چھوٹی سی بات سمجھتے ہیں۔حالانکہ قرآن شریف نے اس کو بہت ہی بڑا قرار دیا ہے۔چنانچہ فرمایا ہے: اَیحِبُّ اَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا - (الحجرات: ۱۳) خدا تعالیٰ اس سے ناراض ہوتا ہے کہ انسان ایسا کلمہ زبان پر لاوے جس سے اس کے بھائی کی تحقیر ہو اور ایسی کارروائی کرے جس سے اس کو حرج پہنچے۔ایک بھائی کی نسبت ایسا بیان کرنا جس سے اس کا جاہل اور نادان ہونا ثابت ہو یا اس کی عادت کے متعلق خفیہ طور پر بے غیرتی یا دشمنی پید اہو یہ سب بُرے کام ہیں۔“ ( ملفوظات جلد ۴ صفحه ۶۵۴،۶۵۳)