صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 450 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 450

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۵۰ ۷۸ - كتاب الأدب ریح : الغيبةُ: یعنی غیبت کرنا۔بعض برائیاں بظاہر چھوٹی دکھائی دیتی ہیں لیکن حقیقت میں وہ بہت سی بُرائیوں کا پیش خیمہ بن کر اپنے بد اثرات میں کسی بڑے گناہ سے کمتر نہیں ہوتیں۔غیبت بھی ان میں سے ایک ہے۔عنوانِ باب میں جس آیت کریمہ کا ذکر ہے وہ یہ ہے: يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِنَ الظَّلِنِ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِلَّهُ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ (الحجرات :۱۳) یعنی اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔(ترجمہ حضرت خلیفتہ المسیح الرابع ) حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ”ایک حدیث ہے، قیس روایت کرتے ہیں کہ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنے چند رفقاء کے ساتھ چلے جارہے تھے۔آپ کا ایک مردہ خچر کے پاس سے گزر ہوا جس کا پیٹ پھول چکا تھا ( مرے ہونے کی وجہ سے پیٹ پھول جاتا ہے، کافی دیر سے پڑا تھا۔آپ نے کہا: بخدا تم میں سے اگر کوئی یہ مردار پیٹ بھر کر کھالے تو یہ بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کا گوشت کھائے۔( یعنی غیبت کرے یا چغلی کرے) تو بعض نازک طبائع ہوتی ہیں۔اس طرح مرے ہوئے جانور کو جس کا پیٹ پھول چکا ہو، اس میں سے سخت بدبو آرہی ہو ، تعفن پید اہو رہا ہو ، اس کو بعض طبیعتیں دیکھ بھی نہیں سکتیں کجا یہ کہ اس کا گوشت کھایا جائے۔لیکن ایسی ہی بظاہر حساس طبیعتیں جو مردہ جانور کو تو نہیں دیکھ سکتیں، اس کی بد بو بھی برداشت نہیں کر سکتیں، قریب سے گزر بھی نہیں سکتیں، لیکن مجلسوں میں بیٹھ کر غیبت اور چغلیاں اس طرح کر رہے ہوتے ہیں جیسے کوئی بات ہی نہیں۔تو یہ بڑے خوف کا مقام ہے، ہر ایک کو اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہیئے۔خطبات مسرور ، خطبه جمعه فرموده ۲۶ دسمبر ۲۰۰۳، جلد اوّل صفحه ۵۶۷،۵۶۶) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اسلام نے غیبت کی ممانعت کے متعلق جو حکم دیا ہے اس میں حکمت یہ ہے کہ بسا اوقات انسان دوسرے کے متعلق ایک رائے قائم کرتا ہے اور وہ اپنے آپ کو اس