صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 20 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 20

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۷۵ کتاب المرضى عَنْ عَمْرٍو مَوْلَى الْمُطَّلِبِ عَنْ أَنَسِ عبد الله بن ہاد نے مجھے بتایا۔عبد اللہ نے عمرو بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ سے جو مطلب ( بن عبد اللہ بن حنطب ) کے غلام النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ تھے۔عمرو نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ الله قَالَ إِذَا ابْتَلَيْتُ عَبْدِي بِحَبِيبَتَيْهِ سے روایت کی۔حضرت انس نے کہا میں نے نبی فَصَبَرَ عَوَّضْتُهُ مِنْهُمَا الْجَنَّةَ يُرِيدُ صلى اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: اللہ عَيْنَيْهِ۔تَابَعَهُ أَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ وَأَبُو نے فرمایا ہے۔جب میں اپنے بندے کو اس کی دو ظِلَالِ بْنُ هِلَالٍ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ پیاری چیزوں سے آزماؤں۔اور پھر وہ صبر کرے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔تو میں ان کے بدلے اس کو جنت دوں گا۔آپ کی مراد اس کی دو آنکھیں ہیں۔(عمرو کی طرح) اس حدیث کو اشعث بن جابر اور ابو طلال بن ہلال نے بھی حضرت انس سے، حضرت انس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا۔تشریح: ابواب نمبر 4 اورے میں مرگی اور نابینا اپن کی تکلیف پر صبر کے نتیجے میں جنت کی بشارت دی گئی ہے۔آخرت پر ایمان اور یقین ہی انسان کو حقیقی راحت پہنچا سکتا ہے اس پر ایمان کے نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال دنیا میں لاکھوں انسان بیماریوں و دیگر تکالیف کی شدت اور مایوسی کی وجہ سے خود کشیاں کر لیتے ہیں۔در حقیقت ان سب لوگوں کو رحمتہ للعالمین نے عظیم الشان خوشخبری عطا فرمائی کہ اگر تم ان تکالیف پر صبر کرو گے اور راضی بر ضار ہو گے تو دائمی جنت کے وارث بنو گے آپ کا یہ ایک احسان ہی آپ کے محسن حقیقی اور منجی ہونے کا بھاری ثبوت ہے۔اللهم صل علی محمد و آل محمد۔بیماری کی تکلیف پر صبر کرنا اور اس کا اجر ملنا انسان کو بیماری کے علاج سے نہیں روکتا بلکہ انسان کا جسم اور اس عطا کردہ تمام طاقتیں اور استعدادیں انسان کے پاس اللہ تعالی کی امانت ہے جس کی حفاظت کرنا اور اس کی ضروریات پوری کرنا انسان پر فرض ہے۔ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ لِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقًّا وَلِأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا فَأَعْطِ كُلَّ ذِى حَق حَقَّهُ (الصحيح البخاري، كِتَابُ الصَّوْمِ، بَابُ مَنْ أَقْسَمَ عَلَى أَخِيهِ لِيُفْطِرَ فِي التَّطوع) تیرے رب کا بھی تجھ پر حق ہے اور تیرے نفس کا بھی اور تیری بیوی کا بھی تجھ پر حق ہے۔اس لئے ہر حق والے کو اُس کا حق دے۔بیماری بے شک مومن کے درجات کی بلندی کا باعث ہے مگر اُس کے علاج کے لیے پوری جدوجہد کرنا لازم ہے۔اس فلسفہ کو پورے طور پر نہ سمجھنے کے نتیجے میں ایک کم علم اور ست