صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 443
صحیح البخاری جلد ۱۴ صَاحِبُهُ كَذَلِكَ۔طرفه: ٣٥٠٨۔۴۴۳ ۷۸ - كتاب الأدب متہم کیا گیا ہے ایسا نہیں تو ضرور ہی یہ اُس ( متہم کرنے والے) پر کوٹے گا۔٦٠٤٦: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ ٢٠٤٦: محمد بن سنان نے ہم سے بیان کیا کہ فلح حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِلَالُ بن سلیمان نے ہمیں بتایا۔ہلال بن علی نے ہم بْنُ عَلِي عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمْ يَكُنْ سے بیان کیا۔ہلال نے حضرت انس سے روایت رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ فَاحِشًا وَلَا لَعَانًا وَلَا سَبَّابًا كَانَ يَقُولُ بد اخلاق تھے اور نہ ہی لعنت کرنے والے اور نہ گالیاں دینے والے تھے۔ناراضگی کے وقت آپ عِنْدَ الْمَعْتَبَةِ مَا لَهُ تَرِبَ جَبِينُهُ۔طرفه: ٦٠٣١ - اتنا فرمایا کرتے تھے: اسے کیا ہو گیا؟ اس کی پیشانی کو خاک لگے۔٦٠٤٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ :۶۰۴۷: محمد بن بشار نے ہم سے بیان کیا کہ عثمان حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بن عمر نے ہمیں بتایا۔علی بن مبارک نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے پیچی نے بْنُ الْمُبَارَكِ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ابو قلابہ سے روایت کی کہ حضرت ثابت بن ضحاک عَنْ أَبِي قِلَابَةَ أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَاكِ نے اُن سے بیان کیا اور یہ ان لوگوں میں سے - وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - تھے جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی کہ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول الله صل الم نے فرمایا: جس نے اسلام کے وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَلَفَ عَلَى مِلَّةٍ غَيْرِ علاوہ کسی اور مذہب ( میں داخل ہو جانے ) کی جھوٹی الْإِسْلَامِ كَاذِبًا فَهُوَ كَمَا قَالَ وَلَيْسَ قسم کھائی تو پھر وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا۔عَلَى ابْنِ آدَمَ نَذْرٌ فِيمَا لَا يَمْلِكُ اور ابن آدم کے ذمہ ان امور میں نذر لازم نہیں ہوتی جن پر وہ اختیار نہیں رکھتا۔اور جس شخص نے وَمَنْ قَتَلَ نَفْسَهُ بِشَيْءٍ فِي الدُّنْيَا اپنے تئیں اس دنیا میں کسی چیز سے مار ڈالا اُسے عُذِّبَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَمَنْ لَّعَنَ مُؤْمِنًا قیامت کے دن اس چیز سے سزا دی جائے گی اور فَهُوَ كَقَتْلِهِ وَمَنْ قَذَفَ مُؤْمِنًا بِكُفْرٍ جس نے کسی مؤمن پر لعنت کی تو یہ ایسا ہی ہے