صحیح بخاری (جلد چہار دہم)

Page 441 of 769

صحیح بخاری (جلد چہار دہم) — Page 441

صحیح البخاری جلد ۱۴ ۴۴۱ ۷۸ - كتاب الأدب تمسخر کبھی زبان سے ہوتا ہے، کبھی اعضاء سے، کبھی تحریر سے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس تمسخر کا نتیجہ بہت بُرا ہے۔وحدت باطل ہو جاتی ہے۔پھر وحدت جس قوم میں نہ ہو وہ بجائے ترقی کے ہلاک ہو جاتی ہے۔تم ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نام نہ رکھو۔تم کسی کا بر انام رکھو گے تو تمہارا نام اس سے پہلے فاسق ہو چکا۔پھر بعض جڑیں ایک ایک میل تک چلی گئی ہیں۔میں تم کو نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتے رہو اور بدی کو اُس کے ابتداء میں چھوڑ دو۔“ (حقائق الفرقان جلد ۲ صفحہ ۴٫۳) نیز فرمایا: کسی دوسرے کو حقارت سے نہ دیکھو، بلکہ مناسب یہ ہے کہ اگر کسی کو اللہ نے علم، طاقت اور آبرودی ہے تو اس کے شکریہ میں اس کی، جو نعمت سے متمتع نہیں، مدد کرے ، نہ یہ کہ تمسخر اڑائے۔یہ منع ہے۔چنانچہ اس نے فرمایا: لَا يَسْخَرُ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ۔“ ( حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۴) " حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے ، اُس کی دلجوئی کرے، اس کی بات کی عزت کرے۔کوئی چڑ کی بات منہ پر نہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تَنَابَزُوا بالْأَلْقَابِ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيْمَانِ وَمَنْ لَمْ يَتُبْ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ ) (الحجرات: ۱۲) تم ایک دوسرے کا چڑ کے نام نہ لو۔یہ فعل فساق و فجار کا ہے۔جو شخص کسی کو چڑا تا ہے وہ نہ مرے گاجب تک وہ خود اسی طرح مبتلانہ ہو گا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے کل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔اِنَّ اكرمكم عِندَ اللهِ أَنفُكُم إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ (الحجرات: ۱۴)۔۔۔یہ جو مختلف ذاتیں ہیں یہ کوئی وجہ شرافت نہیں۔خدا تعالیٰ نے محض عرف کے لیے یہ ذاتیں بنائیں اور آج کل تو صرف بعد چار پشتوں کے حقیقی پتہ لگانا ہی مشکل ہے۔متقی کی شان نہیں کہ